ایران میں ’امریکہ اور اسرائیل کے لیے جاسوسی‘ کے الزام میں عرفان شکور زادہ کو پھانسی

ایرانی عدلیہ نے اعلان کیا ہے کہ ’امریکی انٹیلی جنس سروس اور موساد کے ساتھ تعاون‘ کے الزام میں عرفان شکور زادہ کو آج پھانسی دے دی گئی ہے۔
خبر رساں ایجنسی میزان کے مطابق، عرفان شکور زادہ پر الزام تھا کہ انھوں نے ’دشمن اداروں‘ کو حساس اور خفیہ معلومات فراہم کیں، جس کے بعد عدالت نے انھیں سزائے موت سنائی۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق 29 سالہ عرفان شکور زادہ یونیورسٹی آف سائنس اینڈ ٹیکنالوجی میں ایرو اسپیس انجینیئرنگ کے طالب علم تھے۔ انسانی حقوق کے کارکنوں کا کہنا ہے کہ انھیں کئی ماہ تک قیدِ تنہائی میں رکھا گیا اور مبینہ طور پر تشدد کے ذریعے اعتراف جرم پر مجبور کیا گیا۔
ایران میں انسانی حقوق کے مرکز نے آٹھ مئی کو رپورٹ کیا تھا کہ سپریم کورٹ نے عرفان شکور زادہ کی سزائے موت برقرار رکھی ہے۔ تنظیم کے مطابق وہ یونیورسٹی کے ایک ممتاز طالب علم تھے۔
عرفان شکور زادہ کو فروری 2025 میں پاسدارانِ انقلاب کی انٹیلی جنس نے ’جاسوسی اور دشمن ممالک کے ساتھ تعاون‘ کے الزامات کے تحت گرفتار کیا تھا۔
جیل سے بھیجے گئے ایک تحریری پیغام میں عرفان شکور زادہ نے دعویٰ کیا تھا کہ دورانِ حراست انھیں شدید دباؤ، تشدد اور طویل قیدِ تنہائی کا سامنا کرنا پڑا، جبکہ اعتراف جرم بھی زبردستی لیا گیا۔
ایرانی حکام کی جانب سے ان الزامات اور انسانی حقوق سے متعلق دعوؤں پر مزید تفصیلات سامنے نہیں آئی ہیں۔
Web Desk
Media Channel
شائع ہوا: 11 مئی، 2026 کو 07:17 AM
آخری تدوین: 11 مئی، 2026



