عدالتی فیصلے کے بعد اسلام آباد پر دھاوا نہیں بولا جاسکتا، خلاف ورزی پر کارروائی ہوگی: محسن نقوی


وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے کہا ہے کہ اسلام آباد ہائیکورٹ کے فیصلے کے بعد وفاقی دارالحکومت پر دھاوا نہیں بولا جاسکتا اور عدالتی فیصلے کی خلاف ورزی پر کارروائی ہوگی۔ دوسری جانب اسلام آباد ہائیکورٹ نے پی ٹی آئی کے 27 ستمبر کے لانگ مارچ سے متعلق 37 صفحات پر مشتمل تفصیلی فیصلہ جاری کردیا
اسلام آباد: وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے کہا ہے کہ اسلام آباد ہائیکورٹ کے فیصلے کے بعد کسی صورت وفاقی دارالحکومت پر دھاوا نہیں بولا جاسکتا، عدالتی فیصلے کی خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف توہین عدالت کی درخواست دائر کی جائے گی۔
پریس کانفرنس کرتے ہوئے محسن نقوی نے کہا کہ آج دہشت گردی کا افسوسناک واقعہ پیش آیا ہے، ایک طرف شہدا کے جنازے اٹھائے جارہے ہیں اور دوسری طرف دھرنوں کی تیاری کی جارہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ فورسز کو ہدایات دے دی گئی ہیں اور امن و امان برقرار رکھنے کے لیے ہر ممکن اقدامات کیے جائیں گے۔
وزیر داخلہ نے کہا کہ احتجاج کرنا ہے تو اپنے علاقے اور شہر میں کیا جائے۔ سیاسی جلسے جلوس اور جتھوں کی یلغار میں فرق ہوتا ہے، اگر کسی کی جان گئی تو ذمہ داری ان لوگوں پر ہوگی جو ایسے اجتماع کو منظم کررہے ہیں۔
محسن نقوی نے اپوزیشن رہنماؤں سے کہا کہ اس لڑائی سے کسی کو فائدہ نہیں ہوگا بلکہ نقصان ہوگا۔ ان کے مطابق حکومت ماضی کی طرح بدامنی نہیں پھیلنے دے گی اور کوشش ہوگی کہ اسلام آباد کے شہریوں کو کم سے کم مشکلات کا سامنا کرنا پڑے۔
انہوں نے بتایا کہ ممکنہ احتجاج سے نمٹنے کے لیے تیاری مکمل کرلی گئی ہے اور تمام صوبوں سے مشاورت کی گئی ہے۔ محسن نقوی نے سوشل میڈیا پر مخصوص قبائل کے لوگوں کے اسلام آباد آنے سے متعلق باتوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ حکومت بدامنی پھیلانے کی اجازت نہیں دے گی۔
وفاقی وزیر داخلہ نے کہا کہ خیبرپختونخوا حکومت کی ذمہ داری ہے کہ قانون پر عملدرآمد یقینی بنائے اور اگر احتجاج کرنا ہے تو پرامن طریقے سے اپنے صوبے میں کیا جائے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ وہ ذاتی طور پر کنٹینرز لگانے کے حق میں نہیں، تاہم قانون نافذ کرنے والے ادارے ضرورت قرار دیں تو کنٹینرز لگانا پڑتے ہیں۔
یاد رہے کہ پاکستان تحریک انصاف نے 27 ستمبر کو اسلام آباد کی جانب لانگ مارچ کرنے کا اعلان کر رکھا ہے۔
دوسری جانب اسلام آباد ہائیکورٹ نے 27 ستمبر کے پی ٹی آئی لانگ مارچ کے خلاف درخواست پر 37 صفحات پر مشتمل تفصیلی فیصلہ جاری کیا ہے۔ عدالت نے قرار دیا کہ ایسی سرگرمی جس سے شہریوں کے بنیادی حقوق متاثر ہوں، آئین کی خلاف ورزی تصور ہوگی اور ذمہ دار شخص کو قانون کے مطابق کارروائی کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

شائع ہوا: 19 ستمبر، 2026 کو 03:39 AM
آخری تدوین: 19 ستمبر، 2026



