لبنان اور اسرائیل میں جنگ بندی پر اتفاق، حزب اللہ کی سرگرمیاں روکنا شرط قرار
محمد نعیم اختر
امریکی ثالثی میں معاہدہ طے، ٹرمپ کا ایران کے ساتھ جنگ بندی برقرار رہنے کا دعویٰ، لبنان کے معاملے پر اسرائیل سے مزید مذاکرات بھی ہوں گے
(واشنگٹن ڈی سی) لبنان اور اسرائیل نے امریکی ثالثی میں جنگ بندی پر عمل درآمد کے لیے اتفاق کر لیا ہے، تاہم اس معاہدے کو حزب اللہ کی جانب سے مکمل جنگ بندی اور جنوبی لبنان سے اپنے جنگجوؤں کے انخلا سے مشروط قرار دیا گیا ہے۔
امریکی محکمہ خارجہ کی جانب سے بدھ کے روز جاری مشترکہ بیان کے مطابق واشنگٹن میں ہونے والے مذاکرات کے بعد دونوں فریق جنگ بندی نافذ کرنے پر آمادہ ہو گئے ہیں۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ معاہدے کے تحت ایران نواز تنظیم حزب اللہ ہر قسم کی فائرنگ بند کرے گی اور جنوبی لیتانی سیکٹر سے اپنے تمام اہلکار واپس بلائے گی۔
اسرائیل اور لبنان گزشتہ ماہ بھی جنگ بندی پر متفق ہوئے تھے، تاہم اس کے باوجود سرحدی جھڑپیں اور حملے جاری رہے تھے۔ اسرائیل نے مارچ میں لبنان میں فوجی کارروائیاں شروع کی تھیں اور مؤقف اختیار کیا تھا کہ وہ حزب اللہ کے خلاف کارروائی کر رہا ہے، جبکہ حزب اللہ ایران کی حمایت میں اسرائیلی سرحدی علاقوں پر حملے کرتی رہی۔

دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ حالیہ علاقائی حملوں کے باوجود امریکہ اور ایران کے درمیان جنگ بندی بدستور برقرار ہے اور دونوں ممالک کے درمیان مذاکرات "بہت اچھے انداز" میں آگے بڑھ رہے ہیں۔
ایران نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے کویت اور بحرین میں امریکی فوجی اڈوں کے علاوہ آبنائے ہرمز کے قریب ایک بحری جہاز کو نشانہ بنایا۔ ایرانی وزیر خارجہ کے مطابق یہ کارروائیاں "حق دفاعِ" کے تحت کی گئیں۔
ادھر امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے کانگریس میں بریفنگ دیتے ہوئے کہا کہ حزب اللہ اب بھی خطے کے استحکام کے لیے ایک بڑا چیلنج ہے، جس کے باعث لبنان میں پائیدار امن کے لیے مزید اقدامات ضروری ہیں۔
مشترکہ بیان کے مطابق اسرائیل اور لبنان نے اعتماد سازی، سرحدی تنازعات اور دیگر حل طلب معاملات پر براہِ راست مذاکرات جاری رکھنے پر بھی اتفاق کیا ہے۔

محمد نعیم اختر
محمد نعیم اختر، واشنگٹن ڈی سی میں وائسز آف امریکا کیلئے بطور بیوروچیف فرائض انجام دے رہے ہیں
شائع ہوا: 4 جون، 2026 کو 05:05 AM
آخری تدوین: 4 جون، 2026



