اسرائیل کو امریکی اسلحے پر انحصار ختم کرنا ہوگا، خودمختار دفاعی نظام بنانا ہوگا: نیتن یاہو

اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے کہا ہے کہ اسرائیل کو امریکی فوجی اسلحے پر انحصار کم کرکے اپنا خودمختار دفاعی اور اسلحہ سازی کا نظام تیار کرنا ہوگا، جبکہ جنوبی لبنان میں فوجی موجودگی برقرار رکھنے کا اعلان بھی کیا
(تل ابیب) اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے کہا ہے کہ اسرائیل کو اپنی دفاعی صلاحیتوں کو مزید مضبوط بناتے ہوئے امریکی فوجی اسلحے پر انحصار کم کرنا ہوگا اور مستقبل میں اپنے ہتھیاروں کی تیاری کے لیے خودمختار نظام قائم کرنا ہوگا۔
اسرائیلی وزیراعظم کے دفتر کی جانب سے جاری کردہ ایک ویڈیو بیان میں نیتن یاہو نے گزشتہ ہفتے فوجیوں سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ وہ امریکہ کی جانب سے ملنے والی مسلسل حمایت اور تعاون کو قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں، تاہم اسرائیل کو اپنی دفاعی ضروریات کے لیے دوسروں پر انحصار سے آزاد ہونا ہوگا۔
انہوں نے کہا کہ "میں اپنے امریکی دوستوں کی حمایت کو بہت سراہتا ہوں، لیکن ہمیں اپنی دفاعی صنعت کو اس مقام تک لے جانا ہوگا جہاں ہم اپنی ضروریات خود پوری کر سکیں اور ایک مضبوط خودمختار اسلحہ سازی کا نظام قائم کر سکیں۔"
نیتن یاہو کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب جنوبی لبنان میں جاری اسرائیلی فوجی کارروائیوں کے باعث واشنگٹن اور تل ابیب کے درمیان بعض معاملات پر اختلافات کی خبریں سامنے آ رہی ہیں۔
رپورٹس کے مطابق امریکہ اسرائیل پر زور دے رہا ہے کہ وہ جنوبی لبنان میں اپنی فوجی کارروائیوں کو محدود کرے اور خطے میں کشیدگی میں مزید اضافے سے گریز کرے۔
اسرائیل اور لبنان کی سرحدی پٹی میں کشیدگی بدستور برقرار ہے، جبکہ اسرائیلی فوج جنوبی لبنان کے بعض علاقوں میں اپنی موجودگی برقرار رکھے ہوئے ہے۔
اپنے بیان میں نیتن یاہو نے واضح کیا کہ اسرائیل جنوبی لبنان میں اپنی فوجی پوزیشن برقرار رکھے گا اور حزب اللہ کے انفراسٹرکچر کو نشانہ بنانے کی پالیسی جاری رکھے گا۔
انہوں نے کہا کہ "ہم جنوبی لبنان میں اپنی موجودگی برقرار رکھیں گے اور حزب اللہ کے بنیادی ڈھانچے کو ختم کرنے کا عمل جاری رکھیں گے تاکہ اسرائیل کی سلامتی کو یقینی بنایا جا سکے۔"
Web Desk
Media Channel
شائع ہوا: 23 جون، 2026 کو 12:51 PM
آخری تدوین: 23 جون، 2026



