ایاز صادق کا بڑا بیان، پی ٹی آئی کو مذاکرات کی کوئی نئی دعوت نہیں دی

اسپیکر قومی اسمبلی ایاز صادق نے واضح کیا ہے کہ انہوں نے پی ٹی آئی کو مذاکرات کی کوئی نئی دعوت نہیں دی۔ عامر ڈوگر سے ملاقات میں صرف قومی اسمبلی کے اجلاس، یومِ آزادی کی تقریب اور پارلیمانی امور پر گفتگو ہوئی، جبکہ انہوں نے کہا کہ مسائل کا حل صرف مذاکرات میں ہے
اسلام آباد: اسپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق نے واضح کیا ہے کہ انہوں نے پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کو مذاکرات کی کوئی نئی دعوت نہیں دی، جبکہ اپوزیشن لیڈر عامر ڈوگر سے ملاقات میں صرف قومی اسمبلی کے آئندہ اجلاس اور یومِ آزادی کی تقریب سے متعلق امور پر تبادلۂ خیال کیا گیا۔
میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ایاز صادق نے بتایا کہ عامر ڈوگر سے ملاقات کے دوران یومِ آزادی کی تقریب میں شرکت کے لیے پی ٹی آئی کے ارکانِ قومی اسمبلی کے نام طلب کیے گئے تھے، جبکہ مذاکرات سے متعلق کوئی بات چیت نہیں ہوئی۔
انہوں نے کہا کہ اگر وفاقی وزیر طارق فضل چوہدری نے کسی سے مذاکرات کے حوالے سے بات کی ہے تو انہیں اس بارے میں کوئی علم نہیں۔ ان کے بقول وہ خود متعدد مرتبہ مذاکرات کی دعوت دے چکے ہیں اور اب مزید دعوت دینے کا سلسلہ بند کر دیا ہے۔
اسپیکر قومی اسمبلی نے کہا کہ وزیراعظم بھی کئی بار پارلیمنٹ کے فورم پر اپوزیشن کو مذاکرات کی دعوت دے چکے ہیں، تاہم جن اپوزیشن ارکان کی وجہ سے پارلیمانی کمیٹی تشکیل دی گئی تھی، انہوں نے اس کی بحالی کے لیے کوئی درخواست جمع نہیں کرائی۔
ایاز صادق کا کہنا تھا کہ تمام سیاسی اور پارلیمانی مسائل کا حل باہمی مذاکرات اور بات چیت میں ہے، جبکہ میڈیا پر بیانات دینے سے مذاکرات آگے نہیں بڑھتے۔ انہوں نے کہا کہ بظاہر تحریک انصاف نے اپوزیشن لیڈر کا انتخاب مذاکرات کے مقصد سے کیا تھا، تاہم شاید انہیں اس کی اجازت نہیں ملی۔
انہوں نے مزید کہا کہ اگر تحریک انصاف کے قائمہ کمیٹیوں کے چیئرمینوں کے پاس موجود عملہ واپس کر دیا جائے تو اسے پارلیمانی امور میں استعمال کیا جا سکتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر اپوزیشن لیڈر ان کے چیمبر میں آنا نہیں چاہتے تو کمیٹی روم میں بھی ملاقات ہو سکتی ہے، وہ اپنا چیمبر خالی کرنے کے لیے بھی تیار ہیں، لیکن ان کے مطابق اصل مسئلہ یہ ہے کہ اپوزیشن مذاکرات کرنا ہی نہیں چاہتی۔
Web Desk
Media Channel
شائع ہوا: 7 اگست، 2026 کو 12:42 PM
آخری تدوین: 7 اگست، 2026



