یومِ استحصالِ کشمیر: کینیڈا میں بھارتی قونصل خانے کے باہر خالصتان کارکنوں کا احتجاج، کشمیریوں سے اظہارِ یکجہتی
قرةالعَین حیدر6 اگست، 2026
کینیڈا کے شہر وینکوور میں یومِ استحصالِ کشمیر کے موقع پر خالصتان ریفرنڈم سے وابستہ کارکنوں نے بھارتی قونصل خانے کے باہر احتجاج کیا، کشمیری عوام سے اظہارِ یکجہتی کیا، بھارتی پالیسیوں پر تنقید کی اور مسئلہ کشمیر کے حل کے لیے بین الاقوامی قوانین کے مطابق اقدامات کا مطالبہ کیا۔
کینیڈا کے شہر وینکوور میں یومِ استحصالِ کشمیر کے موقع پر بھارتی قونصل خانے کے باہر خالصتان ریفرنڈم سے وابستہ کارکنوں نے احتجاجی مظاہرہ کیا اور مقبوضہ کشمیر کے عوام سے اظہارِ یکجہتی کیا۔
مظاہرین نے "Kashmir–Khalistan: End Indian Terror" کے عنوان سے ریلی نکالی، جس میں بڑی تعداد میں افراد نے شرکت کی۔ شرکاء نے کشمیر سے متعلق بھارتی پالیسیوں پر تنقید کرتے ہوئے 5 اگست 2019 کے اقدامات کو واپس لینے کا مطالبہ کیا اور کشمیری عوام کے حقِ خودارادیت کے حق میں نعرے لگائے۔
مظاہرین کا کہنا تھا کہ کشمیر کے مسئلے کا پائیدار اور منصفانہ حل کشمیری عوام کی خواہشات اور بین الاقوامی قوانین کے مطابق نکالا جانا چاہیے۔ انہوں نے عالمی برادری سے مطالبہ کیا کہ وہ خطے میں انسانی حقوق کی صورتحال پر توجہ دے اور مسئلے کے پرامن حل کے لیے کردار ادا کرے۔
احتجاج کے دوران بعض مظاہرین نے بھارتی قومی پرچم کو نقصان پہنچایا اور بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کی تصاویر کی بے حرمتی کرتے ہوئے بھارتی قونصل خانے کے سامنے شدید نعرے بازی کی۔

واضح رہے کہ 5 اگست 2019 کو بھارت نے آئین کے آرٹیکل 370 اور 35 اے کے تحت جموں و کشمیر کی خصوصی آئینی حیثیت ختم کر دی تھی، جس کے بعد سے ہر سال اس تاریخ کو پاکستان اور دنیا کے مختلف ممالک میں یومِ استحصالِ کشمیر کے حوالے سے مختلف تقریبات، ریلیاں اور احتجاجی مظاہرے منعقد کیے جاتے ہیں۔

قرةالعَین حیدر, وائسز آف امریکا کیلئے کینیڈا میں بطور نمائندہ خصوصی کے فرائض انجام دے رہی ہیں
شائع ہوا: 6 اگست، 2026 کو 07:54 PM
آخری تدوین: 6 اگست، 2026



