غزہ میں فوجی آپریشن جاری رہیں گے، اسرائیلی آرمی چیف ایال ضمیر کا دوٹوک مؤقف

اسرائیلی آرمی چیف لیفٹیننٹ جنرل ایال ضمیر نے کہا ہے کہ غزہ میں فوجی کارروائیاں جاری رہیں گی۔ انہوں نے حماس کی عسکری صلاحیت کو نقصان پہنچانے اور نخبا فورس کے ارکان کے خلاف آپریشنز جاری رکھنے کا اعلان کیا
(تل ابیب )اسرائیلی آرمی چیف لیفٹیننٹ جنرل ایال ضمیر نے کہا ہے کہ غزہ میں فوجی آپریشن فی الحال نہیں روکے جائیں گے اور اسرائیلی فورسز اپنے مقررہ اہداف کے حصول تک کارروائیاں جاری رکھیں گی۔
اسرائیلی فوج کی جانب سے جاری بیان کے مطابق جنرل ایال ضمیر نے غزہ کے دورے کے دوران کہا کہ فوج نے حماس کی عسکری صلاحیت کو نمایاں نقصان پہنچایا ہے اور علاقے میں سکیورٹی کی صورتحال کو اسرائیل کے حق میں تبدیل کیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ممکنہ خطرات کے خاتمے اور اسرائیلی شہریوں کے تحفظ کے لیے پیشگی فوجی کارروائیاں آئندہ بھی جاری رکھی جائیں گی۔
آرمی چیف کے مطابق اسرائیلی فورسز حماس کے عسکری ونگ نخبا فورس کے ان ارکان کی تلاش اور تعاقب بھی جاری رکھیں گی جن پر 7 اکتوبر کے حملوں کی منصوبہ بندی اور ان پر عمل درآمد میں ملوث ہونے کا الزام ہے۔
خبر رساں ادارے کے مطابق حالیہ مذاکرات کے دوران ایک ثالثی نمائندے نے اسرائیل پر زور دیا تھا کہ معاہدے میں پیش رفت کے پیش نظر غزہ میں فوجی حملے روک دیے جائیں، تاہم اسرائیلی فوجی قیادت نے واضح کیا ہے کہ موجودہ حالات میں آپریشنز جاری رہیں گے۔
یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب غزہ کے حوالے سے سفارتی سرگرمیوں میں تیزی دیکھی جا رہی ہے۔ حالیہ دنوں میں بورڈ آف پیس کے غزہ نمائندے نکولائے ملادینوف نے اسرائیلی وزیرِ اعظم بنیامین نیتن یاہو سے ملاقات کی، جس میں حماس کو غیر مسلح کرنے اور غزہ کے انتظامی امور ایک شہری حکومت کے سپرد کرنے سے متعلق مختلف تجاویز پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
غزہ کی صورتحال کے حوالے سے بین الاقوامی سطح پر سفارتی کوششیں جاری ہیں، تاہم اسرائیل کی جانب سے فوجی کارروائیاں جاری رکھنے کے اعلان نے جنگ بندی اور مذاکرات کے مستقبل سے متعلق نئے سوالات کو جنم دے دیا ہے۔
Web Desk
Media Channel
شائع ہوا: 6 اگست، 2026 کو 04:04 AM
آخری تدوین: 6 اگست، 2026



