لبنان پر حملے ناقابل قبول، اسرائیل کو امن معاہدے کا احترام کرنا ہوگا: جے ڈی وینس

امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے لبنان پر اسرائیلی حملوں کو ناقابل قبول قرار دیتے ہوئے امن معاہدے کے احترام پر زور دیا۔ ایران کے ساتھ مفاہمتی یادداشت، آبنائے ہرمز، پابندیوں میں نرمی اور خطے کی سیکیورٹی سے متعلق اہم نکات بھی بیان کیے
واشنگٹن: امریکا کے نائب صدر جے ڈی وینس نے لبنان میں اسرائیلی حملوں پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ شہری علاقوں کو نشانہ بنانا ناقابل قبول ہے اور اسرائیل کو طے شدہ امن معاہدے کی مکمل پاسداری کرنا ہوگی۔
وائٹ ہاؤس میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے جے ڈی وینس نے ایران کے ساتھ حالیہ مفاہمتی یادداشت اور آئندہ مذاکراتی عمل پر تفصیلی گفتگو کی۔ انہوں نے بتایا کہ ایران کے ساتھ مفاہمتی یادداشت پر دستخط کے بعد طے شدہ 60 روزہ مدت کا باضابطہ آغاز ہو چکا ہے، جس کے دوران دونوں ممالک اہم معاملات پر حتمی مذاکرات کریں گے۔
نائب صدر کے مطابق مفاہمتی یادداشت پر دستخط کے بعد امریکی فوج نے ایران کی بندرگاہوں کے اطراف بحری ناکہ بندی کے باوجود کم از کم 12 تجارتی جہازوں کو گزرنے کی اجازت دی، جبکہ ایران کی جانب سے کسی بحری جہاز کو نشانہ نہیں بنایا گیا۔
انہوں نے دعویٰ کیا کہ معاہدے کے بعد صرف ایک رات میں تقریباً ایک کروڑ 25 لاکھ بیرل تیل آبنائے ہرمز سے گزرا، جو عالمی توانائی کی ترسیل اور منڈیوں کے استحکام کے لیے مثبت پیش رفت ہے۔
جے ڈی وینس نے واضح کیا کہ موجودہ مفاہمتی یادداشت ایک عبوری فریم ورک ہے اور کئی اہم و پیچیدہ معاملات آئندہ مذاکرات میں طے کیے جائیں گے۔ ان کے مطابق مذاکرات کے اختتام پر دونوں ممالک کے درمیان حتمی معاہدے کی شرائط مرتب کی جائیں گی۔
لبنان کی صورتحال پر بات کرتے ہوئے امریکی نائب صدر نے کہا کہ واشنگٹن چاہتا ہے کہ جنوبی لبنان میں سیکیورٹی کی ذمہ داری لبنانی حکومت سنبھالے اور ریاستی ادارے قانون نافذ کرنے میں مؤثر کردار ادا کریں۔
انہوں نے مزید کہا کہ ایران معاہدے میں شامل لبنان سے متعلق نکات پر امریکا کی توقع ہے کہ تمام فریق اپنی ذمہ داریوں اور وعدوں کی مکمل پاسداری کریں گے۔
آبنائے ہرمز کے مستقبل کے انتظام سے متعلق سوال پر جے ڈی وینس نے کہا کہ امریکا کا مؤقف بدستور برقرار ہے کہ عالمی تیل و گیس کی ترسیل کے لیے انتہائی اہم اس آبی راستے کو بغیر کسی رکاوٹ یا محصول کے کھلا رہنا چاہیے۔
اپنی گفتگو کے اختتام پر امریکی نائب صدر نے کہا کہ ایران اب تک معاہدے کی شرائط پر عمل کر رہا ہے۔ ان کے بقول یہ مفاہمت امریکا اور ایران دونوں کے مفاد میں ہے، جبکہ مثبت پیش رفت جاری رہنے کی صورت میں ایران کو پابندیوں میں نرمی اور اضافی معاشی فوائد بھی حاصل ہو سکتے ہیں۔
Web Desk
Media Channel
شائع ہوا: 18 جون، 2026 کو 04:54 PM
آخری تدوین: 18 جون، 2026



