بھارت میں "کاکروچ جنتا پارٹی" کی انٹری، امتحانی پرچہ لیک اسکینڈلز پر مودی حکومت دباؤ میں

بھارت میں سرکاری امتحانات کے مبینہ پرچہ لیک اسکینڈلز کے خلاف "کاکروچ جنتا پارٹی" کے نام سے نئی سیاسی جماعت سامنے آگئی۔ رپورٹ کے مطابق گزشتہ 10 برسوں میں تقریباً 90 امتحانی پرچے لیک ہوئے، جبکہ اپوزیشن کا دعویٰ ہے کہ ساڑھے 6 کروڑ سے زائد طلبا متاثر ہوئے
=نئی دہلی: بھارت میں سرکاری امتحانات کے مبینہ طور پر بار بار پرچے لیک ہونے، بے روزگاری اور نوجوانوں میں بڑھتی بے چینی کے پس منظر میں "کاکروچ جنتا پارٹی" کے نام سے نئی سیاسی جماعت سامنے آگئی ہے، جو مودی حکومت کی تعلیمی پالیسیوں اور امتحانی نظام پر سخت تنقید کر رہی ہے۔
عالمی نشریاتی ادارے سی این این کی رپورٹ کے مطابق، گزشتہ چند برسوں میں مختلف سرکاری امتحانات کے پرچے لیک ہونے کے متعدد واقعات نے لاکھوں طلبا کے مستقبل پر سوالات کھڑے کر دیے ہیں، جس کے نتیجے میں ملک کے مختلف حصوں میں نوجوانوں کی جانب سے احتجاج بھی کیا گیا۔
کاکروچ جنتا پارٹی کے بانی ابھیجیت دیپکے نے موجودہ امتحانی نظام پر شدید تنقید کرتے ہوئے کہا کہ اگر حکومت امتحانی مراکز میں نقل اور پرچہ لیک ہونے سے نہیں روک سکتی تو "ڈائپر ہی آخری حل رہ گیا ہے"۔ ان کے مطابق یہ موجودہ نظام کی ناکامی کی علامت ہے۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ مسلسل امتحانی بے ضابطگیوں، روزگار کے محدود مواقع اور غیر یقینی صورتحال کے باعث بھارتی نوجوان شدید ذہنی دباؤ کا شکار ہیں، جبکہ بعض طلبا خودکشی جیسے انتہائی اقدامات تک بھی پہنچ رہے ہیں۔
ادھر کانگریس رہنما ابھیشیک دت نے الزام عائد کیا کہ وزیراعظم نریندر مودی کی حکومت کے گزشتہ دس برسوں کے دوران تقریباً 90 امتحانی پرچے لیک ہوئے، جس سے ساڑھے 6 کروڑ سے زائد طلبا متاثر ہوئے اور ان کے تعلیمی و پیشہ ورانہ مستقبل کو نقصان پہنچا۔
رپورٹ کے مطابق اپوزیشن جماعتیں بھارتی وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان کی کارکردگی پر بھی سوالات اٹھا رہی ہیں اور ان پر تعلیمی نظام میں اصلاحات لانے میں ناکامی کا الزام عائد کر رہی ہیں۔
سی این این کے مطابق، امتحانی بے ضابطگیوں کے خلاف احتجاج کرنے والے طلبا اور نوجوانوں کو بعض حکومتی شخصیات کی جانب سے سخت تنقید کا سامنا بھی کرنا پڑا، جس پر اپوزیشن نے حکومت پر اپنی ناکامیوں سے توجہ ہٹانے کی کوشش کا الزام لگایا۔
تاریخ اور پولیٹیکل سائنس کی ماہر بابیتا تیاگی کے مطابق، میڈیا میں پیش کیے جانے والے سرکاری بیانیے اور زمینی حقائق میں نمایاں فرق موجود ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ بھارتی عوام، خصوصاً نوجوان طبقہ، حکومت کی مجموعی کارکردگی اور تعلیمی نظام میں اصلاحات کے حوالے سے مسلسل سوالات اٹھا رہا ہے۔
تعلیمی ماہرین کے مطابق، اگر امتحانی نظام میں شفافیت، مؤثر نگرانی اور احتساب کو یقینی نہ بنایا گیا تو نوجوانوں کا اعتماد مزید متاثر ہو سکتا ہے، جس کے اثرات مستقبل کی سیاست اور تعلیمی نظام دونوں پر مرتب ہونے کا امکان ہے۔
Web Desk
Media Channel
شائع ہوا: 27 جون، 2026 کو 11:46 AM
آخری تدوین: 27 جون، 2026



