وائسز آف امریکا
تازہ خبریں
تازہ ترین

بھارت میں "کاکروچ جنتا پارٹی" کی انٹری، امتحانی پرچہ لیک اسکینڈلز پر مودی حکومت دباؤ میں

W
Web Desk
27 جون، 2026
بھارت میں "کاکروچ جنتا پارٹی" کی انٹری، امتحانی پرچہ لیک اسکینڈلز پر مودی حکومت دباؤ میں

بھارت میں سرکاری امتحانات کے مبینہ پرچہ لیک اسکینڈلز کے خلاف "کاکروچ جنتا پارٹی" کے نام سے نئی سیاسی جماعت سامنے آگئی۔ رپورٹ کے مطابق گزشتہ 10 برسوں میں تقریباً 90 امتحانی پرچے لیک ہوئے، جبکہ اپوزیشن کا دعویٰ ہے کہ ساڑھے 6 کروڑ سے زائد طلبا متاثر ہوئے

=نئی دہلی: بھارت میں سرکاری امتحانات کے مبینہ طور پر بار بار پرچے لیک ہونے، بے روزگاری اور نوجوانوں میں بڑھتی بے چینی کے پس منظر میں "کاکروچ جنتا پارٹی" کے نام سے نئی سیاسی جماعت سامنے آگئی ہے، جو مودی حکومت کی تعلیمی پالیسیوں اور امتحانی نظام پر سخت تنقید کر رہی ہے۔

عالمی نشریاتی ادارے سی این این کی رپورٹ کے مطابق، گزشتہ چند برسوں میں مختلف سرکاری امتحانات کے پرچے لیک ہونے کے متعدد واقعات نے لاکھوں طلبا کے مستقبل پر سوالات کھڑے کر دیے ہیں، جس کے نتیجے میں ملک کے مختلف حصوں میں نوجوانوں کی جانب سے احتجاج بھی کیا گیا۔

کاکروچ جنتا پارٹی کے بانی ابھیجیت دیپکے نے موجودہ امتحانی نظام پر شدید تنقید کرتے ہوئے کہا کہ اگر حکومت امتحانی مراکز میں نقل اور پرچہ لیک ہونے سے نہیں روک سکتی تو "ڈائپر ہی آخری حل رہ گیا ہے"۔ ان کے مطابق یہ موجودہ نظام کی ناکامی کی علامت ہے۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ مسلسل امتحانی بے ضابطگیوں، روزگار کے محدود مواقع اور غیر یقینی صورتحال کے باعث بھارتی نوجوان شدید ذہنی دباؤ کا شکار ہیں، جبکہ بعض طلبا خودکشی جیسے انتہائی اقدامات تک بھی پہنچ رہے ہیں۔

ادھر کانگریس رہنما ابھیشیک دت نے الزام عائد کیا کہ وزیراعظم نریندر مودی کی حکومت کے گزشتہ دس برسوں کے دوران تقریباً 90 امتحانی پرچے لیک ہوئے، جس سے ساڑھے 6 کروڑ سے زائد طلبا متاثر ہوئے اور ان کے تعلیمی و پیشہ ورانہ مستقبل کو نقصان پہنچا۔

رپورٹ کے مطابق اپوزیشن جماعتیں بھارتی وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان کی کارکردگی پر بھی سوالات اٹھا رہی ہیں اور ان پر تعلیمی نظام میں اصلاحات لانے میں ناکامی کا الزام عائد کر رہی ہیں۔

سی این این کے مطابق، امتحانی بے ضابطگیوں کے خلاف احتجاج کرنے والے طلبا اور نوجوانوں کو بعض حکومتی شخصیات کی جانب سے سخت تنقید کا سامنا بھی کرنا پڑا، جس پر اپوزیشن نے حکومت پر اپنی ناکامیوں سے توجہ ہٹانے کی کوشش کا الزام لگایا۔

تاریخ اور پولیٹیکل سائنس کی ماہر بابیتا تیاگی کے مطابق، میڈیا میں پیش کیے جانے والے سرکاری بیانیے اور زمینی حقائق میں نمایاں فرق موجود ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ بھارتی عوام، خصوصاً نوجوان طبقہ، حکومت کی مجموعی کارکردگی اور تعلیمی نظام میں اصلاحات کے حوالے سے مسلسل سوالات اٹھا رہا ہے۔

تعلیمی ماہرین کے مطابق، اگر امتحانی نظام میں شفافیت، مؤثر نگرانی اور احتساب کو یقینی نہ بنایا گیا تو نوجوانوں کا اعتماد مزید متاثر ہو سکتا ہے، جس کے اثرات مستقبل کی سیاست اور تعلیمی نظام دونوں پر مرتب ہونے کا امکان ہے۔

شیئر کریں:
W

Web Desk

Media Channel

شائع ہوا: 27 جون، 2026 کو 11:46 AM

آخری تدوین: 27 جون، 2026

متعلقہ مضامین

لاہور، اسلام آباد اور پنجاب سمیت ملک بھر میں 5.9 شدت کا زلزلہ، شہری خوفزدہ ہو کر گھروں سے باہر نکل آئے
تازہ ترین

لاہور، اسلام آباد اور پنجاب سمیت ملک بھر میں 5.9 شدت کا زلزلہ، شہری خوفزدہ ہو کر گھروں سے باہر نکل آئے

لاہور، اسلام آباد، راولپنڈی، فیصل آباد، خیبرپختونخوا اور دیگر شہروں میں 5.9 شدت کے زلزلے کے جھٹکے محسوس کیے گئے۔ زلزلے کا مرکز افغانستان کا ہندوکش ریجن تھا جبکہ پی ڈی ایم اے نے انتظامیہ اور ریسکیو اداروں کو الرٹ کر دیا

Web Desk27 جون، 2026
آزاد کشمیر: تاجروں اور ٹرانسپورٹرز کا 29 جون سے کاروبار بحال کرنے کا اعلان، معمولات زندگی بحال ہونا شروع
تازہ ترین

آزاد کشمیر: تاجروں اور ٹرانسپورٹرز کا 29 جون سے کاروبار بحال کرنے کا اعلان، معمولات زندگی بحال ہونا شروع

آزاد کشمیر کے تاجر اور ٹرانسپورٹ رہنماؤں نے 29 جون سے کاروبار اور ٹرانسپورٹ بحال رکھنے کا اعلان کر دیا۔ مظفرآباد، میرپور، بھمبر اور نیلم سمیت مختلف علاقوں میں معمولات زندگی بتدریج بحال ہونے لگے ہیں

Web Desk27 جون، 2026
قانونی نوٹس کے بعد علامہ ناصر مدنی نے مومنہ اقبال سے معذرت کر لی
تازہ ترین

قانونی نوٹس کے بعد علامہ ناصر مدنی نے مومنہ اقبال سے معذرت کر لی

اداکارہ مومنہ اقبال کو تنقید کا نشانہ بنانے پر قانونی نوٹس ملنے کے بعد علامہ ناصر مدنی نے اپنے بیان پر معذرت کر لی۔ انہوں نے کہا کہ اگر ان کے الفاظ سے مومنہ اقبال یا ان کے اہلِ خانہ کی دل آزاری ہوئی تو وہ معافی چاہتے ہیں

Web Desk27 جون، 2026