پاکستان انڈر 19 ٹیم کو تارکین وطن سمجھ کر ہوٹل کے باہر احتجاج، غلط فہمی چند منٹ میں دور


پورٹس ماؤتھ میں پاکستانی انڈر 19 کرکٹرز کو تارکین وطن سمجھ کر نقاب پوش مظاہرین ہوٹل کے باہر جمع ہوگئے، حقیقت سامنے آنے پر چند منٹ میں منتشر ہوگئے
پورٹس ماؤتھ: برطانیہ کے شہر پورٹس ماؤتھ میں پاکستان انڈر 19 کرکٹ ٹیم کے کھلاڑیوں کو پناہ کے متلاشی افراد سمجھ کر نقاب پوش مظاہرین کا ایک گروپ ہوٹل کے باہر جمع ہوگیا، تاہم حقیقت سامنے آنے کے بعد مظاہرین چند منٹ میں منتشر ہوگئے۔
برطانوی اخبار دی گارڈین کے مطابق واقعہ اس وقت پیش آیا جب تقریباً 40 افراد کے ہوٹل میں قیام کی اطلاع پر کچھ مقامی مظاہرین وہاں پہنچے۔ مظاہرین کو بتایا گیا تھا کہ ہوٹل میں پناہ کے متلاشی افراد کو ٹھہرایا گیا ہے، تاہم بعد میں معلوم ہوا کہ وہاں پاکستان کی انڈر 19 کرکٹ ٹیم قیام پذیر ہے، جو دورہ انگلینڈ پر موجود ہے۔
صورتحال کی اطلاع ملنے پر ریفارم پارٹی کے کونسلر جارج میڈوک ہوٹل پہنچے۔ میڈوک ہیمپشائر کونسل میں ریفارم گروپ کی قیادت کرتے ہیں اور ان کے وارڈ میں مذکورہ ہوٹل بھی شامل ہے۔

کونسلر کے مطابق انہیں منگل کی شام اطلاع ملی کہ تقریباً 40 افراد ہوٹل کے باہر جمع ہیں اور ان میں سے کئی نے چہرے ڈھانپ رکھے ہیں۔ انہیں بتایا گیا کہ مظاہرین ممکنہ طور پر پناہ کے متلاشی افراد کی ہوٹل میں موجودگی کے خلاف احتجاج کر رہے ہیں۔
ہوٹل پہنچنے کے بعد میڈوک نے منیجر سے ملاقات کی، جس نے انہیں بتایا کہ ہوٹل میں پاکستان انڈر 19 کرکٹ ٹیم کے کھلاڑی قیام پذیر ہیں۔ ٹیم دورہ انگلینڈ کے دوران جنوبی ساحلی علاقے میں موجود ہے۔
میڈوک کے مطابق انہوں نے پاکستانی ٹیم کے کوچ سے بھی بات کی اور صورتحال سے آگاہ کیا۔ بعدازاں انہوں نے ہوٹل کے باہر موجود مظاہرین کو بتایا کہ انہیں غلط فہمی ہوئی ہے اور ہوٹل میں موجود افراد پناہ کے متلاشی نہیں بلکہ پاکستانی کرکٹ ٹیم کے ارکان ہیں۔
وضاحت سامنے آنے کے چند ہی منٹ بعد مظاہرین وہاں سے منتشر ہوگئے۔

کونسلر نے واقعے کو بدقسمت قرار دے دیا
جارج میڈوک نے واقعے کو ’’انتہائی بدقسمت‘‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ پورٹس ماؤتھ کے رہائشی حالیہ واقعات کے باعث پناہ کے متلاشی افراد سے متعلق معاملات میں پہلے ہی محتاط ہیں۔
ان کے مطابق مظاہرین کے خدشات کی ایک وجہ یہ بھی تھی کہ ہوٹل کے باہر آنے والی کوچ اسی کمپنی کی تھی جس کی گاڑیاں پناہ کے متلاشی افراد کی منتقلی کے لیے بھی استعمال ہوتی ہیں۔
میڈوک نے کہا کہ محض کسی شخص کے غیر ملکی نظر آنے کی بنیاد پر نقاب پوش افراد کا ہوٹل کے باہر جمع ہونا قابل قبول نہیں، تاہم ان کے بقول یہ واقعہ مقامی سطح پر پناہ کے متلاشی افراد سے متعلق پائی جانے والی تشویش کی بھی عکاسی کرتا ہے۔

واقعے سے قبل کونسلر نے فیس بک پر ایک پوسٹ کے ذریعے لوگوں سے ہوٹل کے علاقے سے دور رہنے کی اپیل بھی کی تھی۔ بعد میں انہوں نے بتایا کہ مقامی رہائشیوں نے پاکستانی کرکٹرز کو ممکنہ تارکین وطن سمجھ کر انہیں ہوٹل میں داخل ہوتے دیکھا اور متعدد افراد نے انہیں وہاں پہنچنے کے لیے پیغامات بھیجے۔
میڈوک کے مطابق ہوٹل پہنچنے پر عملے اور ٹیم کے کوچ سے گفتگو کے علاوہ انہیں یہ ثبوت بھی دکھایا گیا کہ ہوٹل میں موجود افراد کرکٹرز ہیں۔ بعدازاں انہوں نے اپنی فیس بک پوسٹ کو پرائیویٹ کردیا کیونکہ اس پر توہین آمیز اور اشتعال انگیز تبصرے آنے لگے تھے۔
ای سی بی کا پی سی بی سے رابطہ
واقعے کے بعد انگلینڈ اینڈ ویلز کرکٹ بورڈ (ECB) نے پاکستان کرکٹ بورڈ (PCB) سے رابطہ کرکے پاکستانی انڈر 19 ٹیم کے ارکان کی خیریت دریافت کی۔
ای سی بی کی جانب سے پاکستان انڈر 19 ٹیم کے دورہ انگلینڈ کے بقیہ حصے کے لیے سکیورٹی انتظامات کا بھی جائزہ لیا جا رہا ہے۔
پاکستان انڈر 19 ٹیم کا دورہ انگلینڈ
پاکستان انڈر 19 ٹیم ان دنوں انگلینڈ کے دورے پر ہے جہاں وہ انگلینڈ انڈر 19 کے خلاف مختلف فارمیٹس میں میچز کھیل رہی ہے۔
دونوں ٹیموں کے درمیان چار روزہ میچ 2 سے 5 ستمبر تک ارنڈیل میں کھیلا گیا، جس میں انگلینڈ انڈر 19 نے پاکستان کو 10 رنز سے شکست دی۔
9 ستمبر کو کھیلے گئے یوتھ ون ڈے میں پاکستان انڈر 19 نے شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے انگلینڈ انڈر 19 کو 177 رنز سے شکست دی۔
دوسری جانب پاکستان کی سینئر کرکٹ ٹیم بھی انگلینڈ کے دورے پر موجود ہے، جہاں دونوں ٹیموں کے درمیان تین ٹیسٹ میچز کی سیریز کا تیسرا اور آخری ٹیسٹ ایجبسٹن میں جاری ہے۔

شائع ہوا: 10 ستمبر، 2026 کو 04:26 AM
آخری تدوین: 10 ستمبر، 2026



