واشنگٹن کے تمام اقدامات تیل کی قیمتوں میں اضافہ روکنے میں ناکام رہے، باقر قالیباف


ایران کی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف نے کہا ہے کہ تیل کی بڑھتی قیمتوں کو روکنے کے لیے واشنگٹن کے مارکیٹ میں مداخلت اور اسٹریٹجک ذخائر جاری کرنے سمیت تمام اقدامات ناکام ثابت ہوئے ہیں
تہران: ایران کی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف نے دعویٰ کیا ہے کہ عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں اضافے کو روکنے کے لیے امریکا کی جانب سے کیے جانے والے مختلف اقدامات مؤثر ثابت نہیں ہوئے۔
محمد باقر قالیباف نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اپنے بیان میں امریکی کوششوں پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ واشنگٹن تیل کی قیمتوں میں کمی لانے کے لیے دستیاب مختلف ذرائع کو مرحلہ وار استعمال کرے گا، تاہم ان اقدامات کے باوجود خام تیل کی قیمتوں میں اضافے کا رجحان تبدیل نہیں ہوگا۔
ایرانی اسپیکر کے مطابق امریکا کے پاس تیل کی قیمتوں پر اثر انداز ہونے کے لیے متعدد آپشنز موجود ہیں، جن میں مارکیٹ میں مداخلت، اسٹریٹجک پٹرولیم ذخائر سے تیل کا اجرا اور دیگر اقدامات شامل ہیں۔
انہوں نے الزام عائد کیا کہ امریکی کوششوں میں مبینہ طور پر گمراہ کن رپورٹس کے ذریعے مارکیٹ پر اثرانداز ہونے کی کوششیں بھی شامل ہیں۔
قالیباف نے مزید کہا کہ واشنگٹن ان تمام طریقوں کو آزمانے کے باوجود عالمی سطح پر تیل کی قیمتوں میں اضافے کے رجحان کو واپس نہیں موڑ سکے گا۔
ان کے بیان میں مستقبل میں تیل کی قیمتوں کے حوالے سے کسی حتمی پیش گوئی کے بجائے امریکی پالیسیوں پر طنزیہ انداز میں تنقید کی گئی اور یہ تاثر دیا گیا کہ موجودہ حالات میں واشنگٹن کے لیے قیمتوں میں اضافے کو روکنا آسان نہیں ہوگا۔
واضح رہے کہ تیل کی عالمی قیمتیں جغرافیائی سیاسی کشیدگی، عالمی طلب و رسد، پیداوار میں تبدیلیوں اور بڑے تیل پیدا کرنے والے ممالک کی پالیسیوں سمیت متعدد عوامل سے متاثر ہوتی ہیں۔

شائع ہوا: 11 ستمبر، 2026 کو 04:01 AM
آخری تدوین: 11 ستمبر، 2026


