ایران جنگ پر امریکی نائب صدر جے ڈی وینس تشویش میں مبتلا، کامیابی کے امکانات پر سوالات


امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے ایران جنگ کی حکمت عملی اور کامیابی کے امکانات پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔ امریکی فوجی کمانڈروں سے حاصل کیے گئے جائزے میں پیٹریاٹ انٹرسیپٹرز اور اہم میزائل نظام کی قلت کو بڑا چیلنج قرار دیا گیا
واشنگٹن: امریکی نائب صدر جے ڈی وینس ایران کے خلاف جاری جنگ کی حکمت عملی اور اس میں کامیابی کے امکانات کے حوالے سے شدید تشویش میں مبتلا ہوگئے ہیں۔
امریکی میڈیا کے مطابق جے ڈی وینس نے مشرق وسطیٰ، یورپ اور ایشیا میں موجود امریکی فوجی کمانڈروں سے براہِ راست رابطہ کرکے ایران جنگ کے حوالے سے بے لاگ اور زمینی حقائق پر مبنی جائزہ طلب کیا۔
رپورٹ کے مطابق فوجی کمانڈروں کی جانب سے پیش کیا گیا جائزہ ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے عوامی سطح پر اختیار کیے گئے مؤقف کے مقابلے میں کہیں زیادہ تشویشناک تھا۔
امریکی میڈیا کے مطابق فوجی حکام نے ایران کے ساتھ جنگ کے دوران دفاعی صلاحیتوں اور میزائل نظام سے متعلق متعدد خدشات سے آگاہ کیا۔ ان میں سب سے بڑا مسئلہ پیٹریاٹ انٹرسیپٹرز کے ذخائر میں نمایاں کمی کو قرار دیا گیا۔
رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ ایک موقع پر پیٹریاٹ انٹرسیپٹرز کی تعداد 100 سے بھی کم رہ گئی تھی، جس نے امریکی فوجی حکام کی تشویش میں مزید اضافہ کیا۔
اس کے علاوہ اہم میزائل دفاعی نظام اور دیگر ضروری عسکری سازوسامان کی فراہمی میں بھی تاریخی نوعیت کی کمی کی نشاندہی کی گئی۔
ذرائع کے مطابق ان تفصیلات نے ایران جنگ کی موجودہ حکمت عملی، امریکی دفاعی صلاحیت اور طویل جنگ کی صورت میں کامیابی کے امکانات سے متعلق واشنگٹن میں سنجیدہ سوالات پیدا کر دیے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق جے ڈی وینس کی جانب سے فوجی کمانڈروں سے براہِ راست زمینی صورتحال جاننے کی کوشش اس بات کی عکاسی کرتی ہے کہ ٹرمپ انتظامیہ جنگ کے حقیقی اثرات اور امریکی عسکری وسائل پر پڑنے والے دباؤ کا تفصیلی جائزہ لے رہی ہے۔

شائع ہوا: 11 ستمبر، 2026 کو 04:23 AM
آخری تدوین: 11 ستمبر، 2026



