حکومت کا نئے صوبوں کے قیام پر پارلیمنٹ میں بحث کرانے کا اعلان


وفاقی حکومت نے نئے صوبوں کے قیام کے معاملے پر قومی اسمبلی اور سینیٹ میں بحث کرانے کا اعلان کردیا۔ وزیر مملکت طارق فضل چودھری کا کہنا ہے کہ دونوں ایوانوں کے اجلاس اکتوبر میں ہوں گے، جہاں نئے صوبوں کے معاملے پر بحث کی جائے گی۔ انہوں نے واضح کیا کہ اسلام آباد کو صوبہ بنانے کی کوئی تجویز زیرِ غور نہیں، وفاقی دارالحکومت کے لیے نئے گورننس ماڈل پر کام جاری ہے
اسلام آباد: وفاقی حکومت نے نئے صوبوں کے قیام کے معاملے پر قومی اسمبلی اور سینیٹ میں بحث کرانے کا اعلان کردیا ہے۔
وزیر مملکت برائے کیڈ طارق فضل چودھری نے کہا ہے کہ نئے صوبوں کے قیام سے متعلق بحث کا اصل فورم پارلیمنٹ ہے، اس لیے اس معاملے پر قومی اسمبلی اور سینیٹ میں تفصیلی بحث کی جائے گی۔
طارق فضل چودھری کے مطابق ستمبر میں قومی اسمبلی اور سینیٹ کے اجلاس نہیں ہوں گے، تاہم دونوں ایوانوں کے اجلاس اکتوبر میں متوقع ہیں، جہاں نئے صوبوں کے قیام سے متعلق مختلف تجاویز اور آرا پر بحث کی جائے گی۔
انہوں نے کہا کہ نئے صوبوں کے معاملے پر مختلف آرا سامنے آتی رہی ہیں، تاہم حتمی گفتگو اور فیصلہ سازی پارلیمانی فورم پر ہی ہونی چاہیے۔
وفاقی دارالحکومت کے حوالے سے طارق فضل چودھری نے واضح کیا کہ اسلام آباد کو صوبہ بنانے کی کوئی تجویز زیرِ غور نہیں۔ ان کے مطابق اسلام آباد صوبہ نہیں بننے جا رہا بلکہ وفاقی دارالحکومت کو بہتر انتظامی نظام فراہم کرنے کے لیے نئے گورننس ماڈل پر کام کیا جا رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ اسلام آباد کو الگ صوبہ بنانے کی کوئی بات نہیں ہو رہی، تاہم شہر کے انتظامی امور کو مؤثر بنانے کے لیے نئے گورننس ماڈل پر غور جاری ہے۔
حکومت کے اعلان کے بعد نئے صوبوں کے قیام کا معاملہ آئندہ اکتوبر میں پارلیمانی بحث کا حصہ بننے جا رہا ہے، جسے ملک کے انتظامی اور سیاسی ڈھانچے کے حوالے سے اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔

شائع ہوا: 10 ستمبر، 2026 کو 02:41 PM
آخری تدوین: 10 ستمبر، 2026



