پمز ہسپتال میں زیادہ بچوں کی اموات دم گھٹنے سے ہوئیں: طارق فضل چودھری

وفاقی وزیر طارق فضل چودھری کے مطابق پمز ہسپتال میں آتشزدگی کے دوران زیادہ تر بچوں کی اموات دھویں کے باعث دم گھٹنے سے ہوئیں، آگ شارٹ سرکٹ سے لگی
اسلام آباد: وفاقی وزیر برائے پارلیمانی امور طارق فضل چودھری نے کہا ہے کہ پمز ہسپتال میں آتشزدگی کے افسوسناک واقعے کے دوران زیادہ تر بچوں کی اموات وارڈ میں دھواں بھرنے اور دم گھٹنے کے باعث ہوئیں۔
طارق فضل چودھری نے پمز ہسپتال کا دورہ کیا اور میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ ابتدائی معلومات کے مطابق ہسپتال میں آگ شارٹ سرکٹ کے باعث لگی۔ ان کے مطابق گیس لائن اور پلاسٹک کے آلات کی وجہ سے آگ نے شدت اختیار کی، جبکہ آکسیجن سپلائی کے باعث بھی آگ مزید پھیل گئی۔
وفاقی وزیر نے کہا کہ پمز ہسپتال میں نومولود بچوں کے جاں بحق ہونے کا واقعہ انتہائی افسوسناک اور دلخراش ہے۔ معصوم بچوں کے جاں بحق ہونے کی خبر نے انہیں دلی طور پر رنجیدہ کیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ حکومت اس کربناک گھڑی میں متاثرہ خاندانوں کے ساتھ کھڑی ہے اور غمزدہ والدین و لواحقین کے دکھ میں برابر کی شریک ہے۔ ایسے افسوسناک واقعات کی روک تھام کے لیے ہسپتالوں میں پیشگی حفاظتی اقدامات اور مؤثر ہنگامی انتظامات ناگزیر ہیں۔
طارق فضل چودھری کا کہنا تھا کہ ہسپتالوں سمیت تمام متعلقہ اداروں میں فائر سیفٹی اور ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے مؤثر انتظامات ہر صورت یقینی بنائے جانے چاہئیں۔ قیمتی انسانی جانوں کے تحفظ کے لیے متعلقہ اداروں کو پیشگی حفاظتی اقدامات پر خصوصی توجہ دینا ہوگی۔
وفاقی وزیر نے متاثرہ خاندانوں سے دلی تعزیت اور ہمدردی کا اظہار کرتے ہوئے دعا کی کہ اللہ تعالیٰ جاں بحق بچوں کو جوارِ رحمت میں جگہ عطا فرمائے اور غمزدہ والدین و لواحقین کو صبرِ جمیل دے۔
شائع ہوا: 26 اگست، 2026 کو 08:26 AM
آخری تدوین: 26 اگست، 2026



