ایران جنگ پر 29 ارب ڈالر خرچ، پاکستان کی درخواست پر پروجیکٹ فریڈم روک دیا گیا: پیٹ ہیگیستھ

امریکی وزیر جنگ پیٹ ہیگیستھ نے کہا ہے کہ ایران کے خلاف جاری کشیدگی اور عسکری تیاریوں پر اب تک 29 ارب ڈالر خرچ ہو چکے ہیں، جبکہ امریکی صدر نے پاکستان کی درخواست پر “پروجیکٹ فریڈم” کو روک دیا ہے۔
امریکی وزیر جنگ پیٹ ہیگیستھ کی جانب سے ہاؤس سب کمیٹی برائے دفاع میں پیش ہوئے، جہاں جوائنٹ چیفس آف سٹاف جنرل ڈین کین بھی کمیٹی روم میں موجود تھے۔
پیٹ ہیگیستھ نے کہا کہ محکمہ جنگ کو کئی بڑے چیلنجز کا سامنا ہے، جن سے نمٹنے کے لیے ڈیڑھ ارب ڈالر کے اضافی بجٹ کی ضرورت ہے۔
کمیٹی کے ایک رکن نے ایران کے خلاف جنگی اخراجات اور نقصانات کی تفصیلات طلب کرتے ہوئے کہا کہ 60 روزہ مہلت ختم ہو چکی ہے جبکہ کانگریس نے جنگ کی باقاعدہ منظوری نہیں دی۔
اس پر سوال اٹھایا گیا کہ اگر کانگریس جنگ کی منظوری نہیں دیتی تو امریکی حکومت کا آئندہ لائحہ عمل کیا ہوگا۔ جواب میں پیٹ ہیگیستھ نے کہا کہ حکومت کے پاس کئی متبادل منصوبے موجود ہیں اور ضرورت پڑنے پر جارحیت میں اضافہ بھی کیا جا سکتا ہے۔
پینٹاگون حکام کے مطابق ایران کے خلاف جنگی تیاریوں اور کارروائیوں پر 29 ارب ڈالر خرچ کیے جا چکے ہیں۔ پیٹ ہیگیستھ نے مزید کہا کہ امریکہ کا بنیادی مقصد ایران کو ایٹمی ہتھیار حاصل کرنے سے روکنا ہے، اور یہ ہدف چاہے “پروجیکٹ فریڈم” کے ذریعے حاصل ہو یا جنگ کے ذریعے، امریکہ اسے حاصل کرکے رہے گا۔
انہوں نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ اگر جنگ کی صورتحال پیدا ہوئی تو امریکی افواج کو اسلحہ یا ایمونیشن کی کسی قسم کی کمی کا سامنا نہیں ہوگا۔
Web Desk
Media Channel
شائع ہوا: 13 مئی، 2026 کو 05:39 AM
آخری تدوین: 13 مئی، 2026



