منتہا زہرا قتل کیس: ابتدائی پوسٹ مارٹم رپورٹ میں تشدد کے شواہد، فرانزک رپورٹ کا انتظار

سرگودھا میں 7 سالہ منتہا زہرا قتل کیس کی ابتدائی پوسٹ مارٹم رپورٹ میں مہلک تشدد کے شواہد سامنے آئے ہیں۔ فرانزک تجزیے کے لیے نمونے لاہور بھجوا دیے گئے جبکہ گرفتار ملزمان کے ڈی این اے کی جانچ بھی جاری ہے
(سرگودھا)سرگودھا میں 7 سالہ منتہا زہرا قتل کیس کی ابتدائی پوسٹ مارٹم رپورٹ میں بچی پر شدید تشدد کے شواہد سامنے آئے ہیں، جبکہ فرانزک تجزیے کے لیے مختلف نمونے پنجاب فرانزک سائنس ایجنسی لاہور بھجوا دیے گئے ہیں۔
پوسٹ مارٹم رپورٹ کے مطابق بچی کی گردن اور سر پر مہلک چوٹیں پائی گئیں۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ گردن پر گہرے زخم کے باعث اہم شریان متاثر ہوئی، جبکہ سر پر متعدد شدید چوٹوں اور کھوپڑی میں فریکچر کے شواہد بھی ملے۔ ڈاکٹروں کے مطابق موت کی وجہ گردن اور سر پر لگنے والی مہلک چوٹیں تھیں۔
رپورٹ کے مطابق جسم سے حاصل کیے گئے شواہد کا فرانزک تجزیہ جاری ہے، جس کے بعد ہی جنسی زیادتی سے متعلق کسی حتمی نتیجے پر پہنچا جائے گا۔ حکام کا کہنا ہے کہ اس حوالے سے حتمی رائے پنجاب فرانزک سائنس ایجنسی کی رپورٹ موصول ہونے کے بعد دی جائے گی۔
تفتیش کے سلسلے میں گرفتار تین ملزمان کے ڈی این اے نمونے بھی میچنگ کے لیے لاہور کی فرانزک لیبارٹری بھجوا دیے گئے ہیں۔
یاد رہے کہ اس مقدمے کا مرکزی ملزم قانون نافذ کرنے والے ادارے کے ساتھ مبینہ مقابلے میں ہلاک ہو چکا ہے، جبکہ واقعے کے دیگر پہلوؤں پر تحقیقات جاری ہیں۔
Web Desk
Media Channel
شائع ہوا: 26 جون، 2026 کو 03:18 AM
آخری تدوین: 26 جون، 2026



