امریکی حملوں سے قبل ایران نے عالمی انسپکٹرز کو جوہری تنصیبات تک رسائی دے دی تھی، رافیل گروسی

ایٹمی توانائی کی عالمی ایجنسی کے سربراہ رافیل گروسی نے انکشاف کیا ہے کہ ایران نے اپنی نئی جوہری تنصیبات سے متعلق انٹرنیشنل اٹامک انرجی ایجنسی کو پیشگی آگاہ کر دیا تھا
( واشنگٹن / نیویارک ) انٹرنیشنل اٹامک انرجی ایجنسی کے سربراہ رافیل گروسی نے انکشاف کیا ہے کہ ایران نے اپنی نئی جوہری تنصیبات کے بارے میں عالمی ایجنسی کو آگاہ کر دیا تھا اور عالمی انسپکٹرز کا دورہ بھی طے پا چکا تھا، تاہم اسی روز امریکی حملے شروع ہو گئے جس کے باعث معائنہ ممکن نہ رہ سکا۔
نیویارک میں اقوام متحدہ کے ہیڈ کوارٹرز میں جاری جوہری عدم پھیلاؤ کانفرنس کے دوران پریس کانفرنس کرتے ہوئے رافیل گروسی نے کہا کہ ایران نے حملوں سے چند روز قبل ایک نئی افزودگی تنصیب کے بارے میں آگاہ کیا تھا، جس کے بعد عالمی ایجنسی نے فوری رسائی کی درخواست کی اور ایران نے اس کی اجازت بھی دے دی تھی۔ انہوں نے بتایا کہ 13 جون کو انسپکٹرز کے دورے کا منصوبہ بنایا گیا تھا، لیکن اسی دن حملے شروع ہو گئے۔
رافیل گروسی کے مطابق عالمی ادارہ اس وقت یہ تصدیق نہیں کر سکتا کہ مذکورہ مقام صرف ابتدائی مرحلے میں تھا یا وہاں پہلے ہی سینٹری فیوجز نصب کیے جا رہے تھے۔ ان کے بیان سے یہ تاثر بھی ابھرا کہ ممکنہ طور پر اسرائیل اور امریکا نے عالمی ایجنسی کے معائنے سے قبل کارروائی کو ترجیح دی۔
آئی اے ای اے کے سربراہ نے ایرانی جوہری تنصیبات پر حملوں کو بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے کہا کہ جنیوا پروٹوکولز اور آئی اے ای اے کی متعدد قراردادوں کے تحت جوہری تنصیبات کو نشانہ بنانے کی ممانعت موجود ہے۔ انہوں نے کہا کہ وہ یہ مؤقف پہلے بھی اقوام متحدہ کی سیکورٹی کونسل اور آئی اے ای اے بورڈ آف گورنرز کے سامنے پیش کر چکے ہیں کہ جوہری تنصیبات پر کبھی حملہ نہیں ہونا چاہیے۔
رافیل گروسی نے مزید بتایا کہ عالمی ایجنسی کے آخری معائنے کے وقت ایران کے پاس تقریباً 440 کلوگرام، یعنی لگ بھگ 900 پاؤنڈ افزودہ یورینیم موجود تھا جسے آئی اے ای اے نے سیل کر رکھا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ موجودہ صورتحال میں یہ تصدیق نہیں کی جا سکتی کہ یہ مواد اب بھی ملبے تلے موجود ہے یا اسے کہیں منتقل کر دیا گیا ہے، کیونکہ جنگ بندی کے باوجود مکمل امن قائم نہیں ہوا اور انسپکٹرز کو اب تک دوبارہ رسائی حاصل نہیں ہو سکی۔
انہوں نے خبردار کیا کہ گزشتہ چند برسوں میں ایران کے جوہری پروگرام میں غیر معمولی رفتار سے پیش رفت ہوئی ہے۔ ان کے مطابق ایران کے پاس جدید نسل کے سینٹری فیوجز، مختلف جوہری مرکبات اور نئی تنصیبات موجود ہیں، جس سے صورتحال پہلے سے کہیں زیادہ پیچیدہ ہو چکی ہے۔
دوسری جانب اقوام متحدہ میں ایران کے سفیر نے امریکا پر الزام عائد کیا کہ واشنگٹن اس کانفرنس کو اپنی مبینہ معاہدہ خلاف ورزیوں سے توجہ ہٹانے کے لیے استعمال کر رہا ہے۔ ایرانی سفیر نے کہا کہ عالمی ادارے نہ صرف ان حملوں کی مذمت میں ناکام رہے بلکہ بعض اقدامات سے جارح اور متاثرہ فریق کے کردار کو بھی الٹ دیا گیا۔
نیو یارک میں جاری یہ عالمی کانفرنس مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے سائے میں جاری ہے، اور سفارتی حلقوں کا کہنا ہے کہ موجودہ حالات میں کسی بڑے بین الاقوامی معاہدے تک پہنچنے کے امکانات محدود دکھائی دیتے ہیں۔
Web Desk
Media Channel
شائع ہوا: 30 اپریل، 2026 کو 08:32 PM
آخری تدوین: 30 اپریل، 2026



