کراچی، پشاور اور لاہور دیکھ لیں، اورخود فیصلہ کریں: اسکردو جلسے میں سعد رفیق کا خطاب

مسلم لیگ (ن) کے رہنما سعد رفیق نے اسکردو میں انتخابی جلسے سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ کراچی، پشاور اور لاہور کا موازنہ کر کے عوام خود فیصلہ کر سکتے ہیں۔ انہوں نے گلگت بلتستان کے لیے این ایف سی شیئر، ترقیاتی منصوبوں اور لوڈشیڈنگ کے مسائل پر بھی گفتگو کی
(اسکردو)پاکستان مسلم لیگ (ن) کے سینئر رہنما خواجہ سعد رفیق نے اسکردو کے علاقے گمبہ میں انتخابی جلسے سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ ملک کے مختلف شہروں کی ترقی کا موازنہ کر کے عوام خود فیصلہ کر سکتے ہیں کہ کس حکومت نے بہتر کارکردگی دکھائی۔
انہوں نے کہا کہ کراچی، پشاور اور لاہور کو دیکھ لیا جائے تو فرق واضح نظر آتا ہے، جبکہ پنجاب کے کسی بھی شہر کا دورہ کیا جائے تو ترقیاتی تبدیلیاں نمایاں دکھائی دیتی ہیں۔
سعد رفیق نے کہا کہ نواز شریف نے پاکستان میں جدید انفرااسٹرکچر کی بنیاد رکھی۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر نواز شریف کی حکومتیں اپنی مدت پوری کرتیں تو ملک ترقی کے مزید بلند مراحل طے کر چکا ہوتا۔ انہوں نے اعتراف کیا کہ ان کی جماعت سے بھی بعض کوتاہیاں ہوئی ہیں۔
مسلم لیگ (ن) کے رہنما نے مطالبہ کیا کہ گلگت بلتستان اور آزاد کشمیر کو این ایف سی ایوارڈ میں باقاعدہ حصہ ملنا چاہیے۔ ان کے مطابق اگر ان علاقوں کو این ایف سی میں حصہ ملے تو انہیں وفاق سے الگ فنڈز مانگنے کی ضرورت نہیں پڑے گی۔
انہوں نے کہا کہ اٹھارویں آئینی ترمیم کے بعد صوبوں کے پاس وفاق کے مقابلے میں زیادہ مالی وسائل موجود ہیں، تاہم بعض علاقوں میں ترقیاتی مسائل بدستور برقرار ہیں۔ سعد رفیق نے کراچی کی صورتحال کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ شہر کو متعدد چیلنجز کا سامنا ہے اور وہاں مؤثر توجہ کی ضرورت ہے۔
جلسے سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے گلگت بلتستان میں طویل لوڈشیڈنگ پر تشویش کا اظہار کیا اور کہا کہ 22 گھنٹے کی بجلی بندش کے بارے میں سن کر انہیں افسوس ہوا۔ انہوں نے بتایا کہ شہباز شریف کی حکومت نے علاقے کے لیے 100 میگاواٹ سولر انرجی منصوبہ فراہم کیا ہے، جس سے توانائی کے مسائل میں کمی آنے کی توقع ہے۔
سعد رفیق نے سیاسی سرگرمیوں کے حوالے سے کہا کہ تمام سیاسی جماعتوں کو جلسے اور عوامی رابطہ مہم چلانے کی مکمل آزادی ہونی چاہیے۔ انہوں نے خارجہ امور پر بات کرتے ہوئے کہا کہ ان کی جماعت کسی بھی ابراہیمی معاہدے کو تسلیم نہیں کرتی۔
جلسے میں مسلم لیگ (ن) کے کارکنوں اور مقامی رہنماؤں کی بڑی تعداد نے شرکت کی، جبکہ مقررین نے گلگت بلتستان کی ترقی اور عوامی مسائل کے حل کے حوالے سے پارٹی کے مؤقف کو اجاگر کیا۔
Web Desk
Media Channel
شائع ہوا: 1 جون، 2026 کو 04:47 AM
آخری تدوین: 1 جون، 2026



