ایران جنگ کے بعد امریکی میزائل ذخائر میں نمایاں کمی، پینٹاگون نے ہنگامی فنڈز مانگ لیے: امریکی میڈیا

امریکی میڈیا کے مطابق ایران کے ساتھ جنگ کے دوران امریکا کے پیٹریاٹ اور تھاڈ میزائل دفاعی نظام کے ذخائر میں نمایاں کمی آئی ہے۔ فاکس نیوز کی رپورٹ کے مطابق پینٹاگون نے دفاعی صلاحیت بحال کرنے کے لیے اربوں ڈالر کے ہنگامی فنڈز کی درخواست کر دی ہے
واشنگٹن: امریکی میڈیا نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران کے ساتھ جنگ کے دوران امریکا کے میزائل دفاعی نظام کے ذخائر میں نمایاں کمی واقع ہوئی ہے، جس کے بعد پینٹاگون نے ہتھیاروں کے ذخائر کی بحالی کے لیے اربوں ڈالر کے ہنگامی فنڈز کی درخواست کر دی ہے۔
امریکی نشریاتی ادارے فاکس نیوز کی رپورٹ کے مطابق امریکی دفاعی حکام اور عسکری ماہرین نے میزائل دفاعی نظام کے ذخائر میں ہونے والی کمی پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ جنگ سے قبل امریکا کے پاس پیٹریاٹ میزائل انٹرسیپٹرز کی تعداد تقریباً 2,300 تھی، جو جنگ کے دوران کم ہو کر 827 رہ گئی۔
اسی طرح تھاڈ (THAAD) انٹرسیپٹرز کی تعداد بھی 452 سے کم ہو کر 278 تک پہنچ گئی، جسے امریکی دفاعی تیاریوں کے لیے ایک اہم چیلنج قرار دیا جا رہا ہے۔
فاکس نیوز کے مطابق پینٹاگون نے کانگریس سے اربوں ڈالر کے ہنگامی فنڈز کی درخواست کی ہے تاکہ میزائل دفاعی نظام کو دوبارہ مضبوط بنایا جا سکے۔ مجوزہ فنڈنگ میں پیٹریاٹ میزائل انٹرسیپٹرز، ٹوماہاک کروز میزائل اور تھاڈ انٹرسیپٹرز کی دوبارہ خریداری شامل ہے۔
رپورٹ کے مطابق امریکی دفاعی حکام کا کہنا ہے کہ موجودہ صورتحال مستقبل میں ممکنہ فوجی چیلنجز سے نمٹنے کے لیے دفاعی ذخائر کی فوری بحالی کی ضرورت کو اجاگر کرتی ہے۔
Web Desk
Media Channel
شائع ہوا: 1 اگست، 2026 کو 08:43 AM
آخری تدوین: 1 اگست، 2026



