شبر زیدی کے بڑے انکشافات: بانی پی ٹی آئی عمران خان سسٹم کی خرابی برقرار رکھنا چاہتے تھے

سابق چیئرمین ایف بی آر نے انکشاف کیا ہے کہ پی ٹی آئی حکومت کے دوران وہ شدید دباؤ کا شکار تھے اور جن اصلاحات کو نافذ کرنا چاہتے تھے، انہیں عملی جامہ نہیں پہنا سکے۔
(کراچی)نجی ٹی وی کے ایک پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے شبر زیدی نے کہا کہ انہوں نے پراپرٹی ویلیو ایشن ٹیبلز کو ریوائز کرنے، تاجروں کو رجسٹرڈ کرنے اور بینک ٹرانزیکشنز کو ٹیکس نظام سے منسلک کرنے کی کوشش کی، تاہم ان اقدامات پر مکمل عملدرآمد نہ ہو سکا۔
انہوں نے کہا کہ انہوں نے ایف بی آر میں 10 سے 15 ہزار ملازمین کو فارغ کرنے کی تجویز دی تھی کیونکہ ادارے میں اتنے بڑے عملے کی ضرورت نہیں تھی۔ ان کے مطابق انہوں نے کہا تھا کہ ان ملازمین کو دفاتر آنے کے بجائے گھر بٹھا دیا جائے، لیکن ان کی تجاویز پر عمل نہیں ہوا۔
شبر زیدی کا کہنا تھا کہ اہلخانہ کے مشورے پر انہوں نے عہدہ چھوڑ کر کراچی واپسی کا فیصلہ کیا، تاہم بانی پی ٹی آئی عمران خان نے ان پر دوبارہ ایف بی آر میں واپسی کیلئے دباؤ ڈالا۔
انہوں نے دعویٰ کیا کہ بانی پی ٹی آئی اورجنرل باجوہ انہیں سپورٹ کر رہے تھے، تاہم ان کے مطابق بانی پی ٹی آئی عمران خان چاہتے تھے کہ نظام مکمل طور پر تبدیل نہ ہو بلکہ خرابی برقرار رہے۔
انہوں نے بتایا کہ دوبارہ ادارے میں واپسی پر انہیں وہی پرانا نظام نظر آیا جس سے ان کی طبیعت مزید خراب ہو گئی، جس کے بعد وہ واپس کراچی چلے گئے۔ ان کا کہنا تھا کہ انہوں نے کبھی باضابطہ طور پر ایف بی آر سے استعفیٰ نہیں دیا۔
شبر زیدی نے کہا کہ گزشتہ دس برسوں میں پاکستان کی ٹیکس کلیکشن 14 ہزار ارب روپے تک پہنچ چکی ہے، لیکن اس کے باوجود ملک اب بھی جی ڈی پی کے حساب سے تقریباً 10 فیصد ٹیکس ہی جمع کر رہا ہے۔
انہوں نے حکومت کی سب سے بڑی ناکامی ٹیکس کلیکشن میں بہتری نہ لانے کو قرار دیتے ہوئے کہا کہ ایف بی آر کو گرفتاری کے اختیارات نہیں ہونے چاہئیں کیونکہ زیادہ اختیارات سے کرپشن میں اضافہ ہوتا ہے۔
Web Desk
Media Channel
شائع ہوا: 17 مئی، 2026 کو 07:34 AM
آخری تدوین: 17 مئی، 2026



