شہباز شریف اور نواز شریف کی ملاقات، اندرونی کہانی سامنے آگئی

وزیراعظم شہباز شریف اور مسلم لیگ ن کے صدر نواز شریف کے درمیان دو گھنٹے طویل اہم ملاقات کی اندرونی کہانی سامنے آگئی۔ ملاقات میں بانی پی ٹی آئی عمران خان کو ہسپتال منتقل کرنے کے سپریم کورٹ کے فیصلے، شفا ہسپتال کے بجائے پمز میں چیک اپ، توہین عدالت کی درخواست، قانونی آپشنز اور آئندہ سیاسی حکمت عملی پر مشاورت کی گئی۔ ملاقات میں وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز بھی شریک ہوئیں
وزیراعظم شہباز شریف اور صدر مسلم لیگ ن میاں نواز شریف کے درمیان ہونے والی اہم ملاقات کی اندرونی کہانی سامنے آگئی ہے۔ ذرائع کے مطابق دونوں رہنماؤں کے درمیان ملاقات تقریباً دو گھنٹے جاری رہی، جس میں ملک کی سیاسی صورتحال، عدالتی معاملات اور آئندہ کی حکمت عملی پر تفصیلی مشاورت کی گئی۔
ذرائع کے مطابق ملاقات کے ایجنڈے میں سب سے اہم معاملہ سپریم کورٹ کی جانب سے بانی پی ٹی آئی عمران خان کو ہسپتال منتقل کرنے کا فیصلہ تھا۔ وزیراعظم شہباز شریف نے نواز شریف کو بانی پی ٹی آئی کو شفا انٹرنیشنل ہسپتال کے بجائے پمز میں چیک اپ کروانے کی وجوہات سے بھی آگاہ کیا۔
ملاقات کے دوران سیاسی حکمت عملی کے ساتھ ساتھ ممکنہ قانونی آپشنز پر بھی غور کیا گیا۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ پی ٹی آئی کی جانب سے توہین عدالت کی درخواست دائر کیے جانے اور حکومت کی جانب سے اس کے ممکنہ قانونی جواب کے حوالے سے بھی مشاورت ہوئی۔
ذرائع کے مطابق نواز شریف نے ملاقات میں اس بات پر زور دیا کہ پاکستان مزید کسی سیاسی اور آئینی بحران کا متحمل نہیں ہوسکتا، اس لیے موجودہ صورتحال کو سیاسی اور قانونی طور پر احتیاط کے ساتھ آگے بڑھانے کی ضرورت ہے۔
ملاقات میں آزاد کشمیر کے آئندہ وزیراعظم کے انتخاب کے معاملے پر بھی غور کیا گیا اور مختلف نام زیرِ بحث آئے۔ وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز بھی ملاقات میں شریک تھیں۔
مسلم لیگ ن کی قیادت کی اس اہم ملاقات کو موجودہ سیاسی اور عدالتی صورتحال کے تناظر میں اہم قرار دیا جا رہا ہے، جبکہ آئندہ دنوں میں حکومتی اور سیاسی سطح پر مزید فیصلوں کا امکان بھی ظاہر کیا جا رہا ہے۔
شائع ہوا: 23 اگست، 2026 کو 02:14 PM
آخری تدوین: 23 اگست، 2026



