ٹرمپ انتظامیہ کا 2 لاکھ پناہ کے متلاشی افراد کے ویزے منسوخ کرنے کا منصوبہ

امریکی ٹرمپ انتظامیہ نے پناہ کی درخواست دینے یا پناہ کے کیس کا سامنا کرنے والے 2 لاکھ تک غیرملکیوں کے بزنس اور ٹورسٹ ویزے منسوخ کرنے کی تیاری شروع کردی ہے، جسے امریکی تاریخ میں ویزوں کی سب سے بڑی اجتماعی منسوخی قرار دیا جا سکتا ہے
واشنگٹن: ٹرمپ انتظامیہ نے امریکا میں پناہ کی درخواست دینے والے یا پناہ کے خواہاں 2 لاکھ تک غیرملکیوں کے بزنس اور ٹورسٹ ویزے منسوخ کرنے کی تیاری شروع کردی۔ حکام کے مطابق یہ اقدام نافذ ہونے کی صورت میں امریکی تاریخ میں ویزوں کی سب سے بڑی اجتماعی منسوخی بن سکتا ہے۔
امریکی محکمہ خارجہ کے مطابق ممکنہ کارروائی میں B1 اور B2 ویزے شامل ہوں گے، جو بالترتیب کاروباری سفر اور سیاحت، خاندانی ملاقات یا طبی علاج کے لیے جاری کیے جاتے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق 2016 سے 2026 کے دوران جاری کیے گئے ان ویزوں کے حامل وہ افراد نشانے پر ہوں گے جنہوں نے امریکا پہنچنے کے بعد سیاسی پناہ کی درخواست دی یا اس وقت پناہ کے کیس کا سامنا کر رہے ہیں۔

محکمہ خارجہ کے ترجمان ٹومی پیگٹ کے مطابق امریکا، محکمہ ہوم لینڈ سیکیورٹی کے تعاون سے ایسے غیر تارکین وطن ویزا ہولڈرز کی نشاندہی کر رہا ہے جو مختصر مدت کے لیے امریکا آنے کے بعد مستقل قیام کے لیے پناہ کی درخواست دیتے ہیں۔

حکام کا کہنا ہے کہ ویزے کی منسوخی کا مطلب لازماً فوری ملک بدری نہیں ہوگا۔ جن افراد کے پناہ کے مقدمات زیرِ التوا ہیں، انہیں امیگریشن قانون کے تحت دوبارہ درجہ بند کیا جا سکتا ہے، تاہم وہ بزنس یا ٹورسٹ ویزا رکھنے کا حق کھو دیں گے۔
امریکی نائب وزیر خارجہ کرسٹوفر لینڈاؤ نے پناہ کے نظام کے مبینہ غلط استعمال پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ پناہ کا نظام امیگریشن قوانین سے بچنے کا راستہ نہیں ہونا چاہیے۔ انتظامیہ کا مؤقف ہے کہ کچھ افراد سیاحتی یا کاروباری ویزے کے ذریعے امریکا داخل ہوکر بعد میں مستقل قیام کے لیے پناہ کی درخواست دیتے ہیں۔

رپورٹ کے مطابق ٹرمپ انتظامیہ نے گزشتہ 18 ماہ کے دوران مختلف وجوہات، جن میں جرائم کے الزامات اور بعض امریکی پالیسیوں کے خلاف عوامی بیانات بھی شامل ہیں، تقریباً 1 لاکھ 75 ہزار ویزے منسوخ کیے ہیں۔ نئی کارروائی کی صورت میں یہ تعداد مزید نمایاں طور پر بڑھ سکتی ہے۔
مجوزہ اقدام کو قانونی چیلنجز کا سامنا بھی ہوسکتا ہے، تاہم محکمہ خارجہ کا کہنا ہے کہ ویزے منسوخ کرنے کا عمل حتمی تعداد طے کیے بغیر مرحلہ وار جاری رکھا جائے گا۔
شائع ہوا: 25 اگست، 2026 کو 03:56 AM
آخری تدوین: 25 اگست، 2026



