ایران کو ایٹمی ہتھیار بنانے کی اجازت نہیں دی جا سکتی، ٹرمپ اور شی جن پنگ متفق

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ چینی صدر شی جن پنگ کے ساتھ ایران، آبنائے ہرمز، تجارت اور تائیوان سمیت اہم امور پر بات چیت ہوئی، دونوں رہنما اس بات پر متفق ہیں کہ ایران کو ایٹمی ہتھیار حاصل نہیں کرنے دیے جائیں گے۔
( رائٹرز ) امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ چینی صدر شی جن پنگ کے ساتھ مذاکرات میں اس بات پر اتفاق ہوا ہے کہ ایران کو ایٹمی ہتھیار حاصل کرنے کی اجازت نہیں دی جا سکتی اور آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولا جانا چاہیے۔
غیر ملکی خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق بیجنگ میں دو روزہ مذاکرات کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ ان کی شی جن پنگ کے ساتھ ایران، تائیوان، تجارت اور دیگر عالمی معاملات پر تفصیلی بات چیت ہوئی۔
ٹرمپ نے کہا کہ “ہم نے کئی ایسے مسائل حل کیے ہیں جنہیں شاید دوسرے لوگ حل نہیں کر سکتے تھے۔” انہوں نے مزید کہا کہ ایران کے معاملے پر ان کا صبر ختم ہوتا جا رہا ہے اور عالمی استحکام کے لیے ضروری ہے کہ تہران ایٹمی ہتھیار حاصل نہ کرے۔
امریکی صدر نے زور دیا کہ آبنائے ہرمز کو فوری طور پر دوبارہ کھولا جانا چاہیے کیونکہ یہ عالمی تجارت اور توانائی کی ترسیل کے لیے انتہائی اہم بحری گزرگاہ ہے۔
رپورٹ کے مطابق ٹرمپ اور شی جن پنگ کے درمیان ملاقات میں ایران جنگ، تائیوان، دوطرفہ تجارت اور خطے کی سیکیورٹی صورتحال پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔
چین اور امریکا کے درمیان حالیہ سفارتی رابطوں کو عالمی سیاست میں اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے، خصوصاً ایسے وقت میں جب مشرق وسطیٰ میں کشیدگی میں اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے۔
Web Desk
Media Channel
شائع ہوا: 15 مئی، 2026 کو 07:40 AM
آخری تدوین: 15 مئی، 2026



