ٹرمپ کا ایران پر دوبارہ حملے کا اشارہ، انتخابات کے بعد نئی کارروائی کا منصوبہ

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران پر جلد دوبارہ حملے کا امکان ظاہر کردیا۔ امریکی میڈیا رپورٹ کے مطابق امریکا اور اسرائیل نے وسط مدتی انتخابات کے بعد نئی کارروائی کی منصوبہ بندی کرلی ہے
واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران پر جلد دوبارہ فوجی کارروائی کا اشارہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ امریکا نے ایران کو شدید نقصان پہنچایا ہے اور مزید کارروائی کا امکان بھی موجود ہے۔
وائٹ ہاؤس کے باہر صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ امریکا نے ایران کو بری طرح نشانہ بنایا ہے اور ممکن ہے کہ آنے والے دنوں میں مزید کارروائی کی جائے۔ ان کے بیان سے ایران کے خلاف ممکنہ امریکی فوجی اقدامات کے حوالے سے نئی بحث شروع ہوگئی ہے۔
مڈٹرم انتخابات اور ایران جنگ پر ٹرمپ کا مؤقف
امریکی وسط مدتی انتخابات کے دوران ووٹرز پر جنگ کے اثرات سے متعلق سوال پر ٹرمپ نے کہا کہ ایک لحاظ سے لوگ ان کے اقدامات کو پسند کرتے ہیں، کیونکہ وہ ایسے کام کر رہے ہیں جو ان کے بقول سابق صدور کو کرنے چاہییں تھے۔
انہوں نے تاہم تسلیم کیا کہ دوسری جانب بعض ووٹرز ان اقدامات کو ناپسند بھی کر سکتے ہیں۔ ٹرمپ کے مطابق فوجی کارروائیوں کی ایک قیمت چکانا پڑتی ہے اور انہیں اس فیصلے کے وقت ہی اس بات کا اندازہ تھا۔
امریکی صدر نے اپنے مؤقف کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ امریکا ایران کو جوہری ہتھیار حاصل کرنے کی اجازت نہیں دے سکتا۔
ایران سے مذاکرات کی تردید
اس سے قبل ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے ساتھ مذاکرات کی خبروں کی تردید کرتے ہوئے کہا تھا کہ امریکا ایران سے بات چیت نہیں کر رہا۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ تنازع کے حوالے سے جلد کوئی پیش رفت سامنے آئے گی اور امریکا فوجی و مالی اعتبار سے ایران کے خلاف اچھی کارکردگی دکھا رہا ہے۔
آبنائے ہرمز اور تیل کی قیمتوں پر الزام
ٹرمپ نے ایران پر امریکی وسط مدتی انتخابات سے قبل تیل کی قیمتیں بڑھانے کی کوششوں کا الزام بھی عائد کیا۔
سوشل میڈیا پر جاری بیان میں امریکی صدر نے دعویٰ کیا کہ آبنائے ہرمز سے اس وقت گزرنے والے تیل کی مقدار فروری میں تنازع شروع ہونے سے پہلے کے مقابلے میں زیادہ ہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ ایران حملوں اور بارودی سرنگوں کے جھوٹے واقعات گھڑ رہا ہے۔
امریکا اور اسرائیل کے نئے حملوں کی منصوبہ بندی کا دعویٰ
امریکی اخبار کی ایک رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ امریکا اور اسرائیل نے امریکی وسط مدتی انتخابات کے بعد ایران پر دوبارہ حملوں کی منصوبہ بندی کرلی ہے۔
رپورٹ کے مطابق، ایک امریکی عہدیدار نے بتایا کہ دونوں ممالک کی افواج ممکنہ کارروائیوں کے لیے اپنی مشقیں بھی تیز کر رہی ہیں۔
رپورٹ میں ممکنہ اہداف میں ایران کی توانائی تنصیبات، جوہری مراکز، میزائلوں کے ذخائر اور ڈرونز کے ذخائر شامل ہونے کا دعویٰ کیا گیا ہے۔
تاہم، ایران پر ممکنہ نئے حملوں سے متعلق ان اطلاعات اور منصوبہ بندی کے دعوؤں کی آزادانہ تصدیق سامنے آنا ضروری ہے۔ اگر فوجی کارروائی ہوتی ہے تو اس کے علاقائی سلامتی، عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں اور امریکا، اسرائیل اور ایران کے تعلقات پر اہم اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔
شائع ہوا: 23 اکتوبر، 2026 کو 04:07 AM
آخری تدوین: 23 اکتوبر، 2026



