وائسز آف امریکا
تازہ خبریں
تازہ ترین

ٹرمپ کا پیوٹن اور زیلنسکی سے رابطہ، یوکرین جنگ کے خاتمے کے لیے ثالثی کی پیشکش

W
Web Desk
6 جولائی، 2026
ٹرمپ کا پیوٹن اور زیلنسکی سے رابطہ، یوکرین جنگ کے خاتمے کے لیے ثالثی کی پیشکش

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے روسی صدر ولادیمیر پیوٹن اور یوکرینی صدر ولادیمیر زیلنسکی سے الگ الگ ٹیلیفونک رابطے کیے۔ دونوں رہنماؤں سے یوکرین جنگ، ممکنہ امن مذاکرات اور سفارتی حل پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا

(واشنگٹن) امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے روسی صدر ولادیمیر پیوٹن اور یوکرینی صدر ولادیمیر زیلنسکی سے الگ الگ ٹیلیفونک رابطے کرتے ہوئے یوکرین جنگ کے خاتمے کے لیے سفارتی کوششوں میں مدد کی پیشکش کی ہے۔

برطانوی خبر رساں ادارے کے مطابق امریکی یومِ آزادی کے موقع پر صدر ٹرمپ اور روسی صدر ولادیمیر پیوٹن کے درمیان تقریباً 90 منٹ طویل ٹیلیفونک گفتگو ہوئی، جس میں یوکرین کی جنگ، ممکنہ امن مذاکرات اور خطے کی مجموعی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

کریملن کے معاون یوری اوشاکوف کے مطابق صدر ٹرمپ نے آئندہ ہفتے ترکی میں ہونے والے نیٹو اجلاس کے تناظر میں یوکرین تنازع کے حل کے لیے امریکی کردار ادا کرنے کی خواہش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ وہ جنگ کے جلد خاتمے اور دیرپا امن کے قیام کے لیے ہر ممکن تعاون کے لیے تیار ہیں۔

روسی حکام کے مطابق صدر پیوٹن نے ایک بار پھر مؤقف اختیار کیا کہ یوکرین تنازع کا پائیدار حل صرف سیاسی اور سفارتی ذرائع سے ممکن ہے، تاہم اس کے لیے روس کے بنیادی مؤقف اور سیکیورٹی خدشات کو بھی مدنظر رکھنا ضروری ہوگا۔

کریملن نے الزام عائد کیا کہ یوکرین اور اس کے بعض یورپی اتحادی جنگ کو طول دینے کے خواہاں ہیں، جبکہ روسی حکام نے یوکرین کی جانب سے روس کے اندر تیل کی تنصیبات پر طویل فاصلے تک مار کرنے والے حملوں کا بھی حوالہ دیا، جن کے باعث بعض علاقوں میں ایندھن کی فراہمی متاثر ہوئی۔

یوری اوشاکوف کے مطابق صدر پیوٹن نے صدر ٹرمپ کو محاذ جنگ کی تازہ صورتحال سے آگاہ کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ روسی افواج مختلف محاذوں پر پیش قدمی کر رہی ہیں اور نئے علاقوں پر کنٹرول حاصل کر رہی ہیں۔

دوسری جانب روس نے دعویٰ کیا ہے کہ اس کی افواج نے مشرقی یوکرین کے ڈونیٹسک خطے کے اہم شہر کوستیانتینیوکا پر قبضہ کر لیا ہے، تاہم یوکرینی صدر ولادیمیر زیلنسکی اور یوکرین کے جنرل اسٹاف نے اس دعوے کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ شہر بدستور یوکرینی افواج کے کنٹرول میں ہے۔

بعد ازاں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے یوکرینی صدر ولادیمیر زیلنسکی سے بھی ٹیلیفون پر گفتگو کی۔ صدر زیلنسکی نے اس رابطے کو مثبت قرار دیتے ہوئے امید ظاہر کی کہ جاری سفارتی کوششیں جنگ کے خاتمے اور امن کے قیام کی راہ ہموار کریں گی۔

واضح رہے کہ روس کا مؤقف ہے کہ کسی بھی ممکنہ امن معاہدے میں ڈونباس خطے پر ماسکو کے مکمل کنٹرول کو تسلیم کیا جانا چاہیے، جبکہ یوکرین اس مطالبے کو مسترد کرتے ہوئے اپنی علاقائی سالمیت پر کسی بھی قسم کا سمجھوتہ نہ کرنے کے عزم کا اعادہ کر چکا ہے۔

شیئر کریں:
W
Web Desk

Media Channel

شائع ہوا: 6 جولائی، 2026 کو 03:08 AM

آخری تدوین: 6 جولائی، 2026

متعلقہ مضامین

مکہ دفاعی معاہدے کے رکن ممالک کی کمیٹی کا اجلاس آج ریاض میں ہوگا
تازہ ترین

مکہ دفاعی معاہدے کے رکن ممالک کی کمیٹی کا اجلاس آج ریاض میں ہوگا

مکہ دفاعی معاہدے کے رکن ممالک کی کمیٹی کا اہم اجلاس آج ریاض میں ہوگا، جس میں ترکیہ، سعودی عرب اور پاکستان کے نمائندے خطے کی سکیورٹی اور باہمی دفاعی تعاون پر غور کریں گے

Web Desk5 اکتوبر، 2026
آئی ایم ایف مذاکرات میں پیشرفت، فیسکو، گیپکو اور آئیسکو کی نجکاری مارچ 2027 تک مکمل کرنے کا پلان
تازہ ترین

آئی ایم ایف مذاکرات میں پیشرفت، فیسکو، گیپکو اور آئیسکو کی نجکاری مارچ 2027 تک مکمل کرنے کا پلان

پاکستان اور آئی ایم ایف کے درمیان چوتھے اقتصادی جائزہ مذاکرات میں پیشرفت ہوئی ہے۔ حکومت نے ڈسکوز کی نجکاری کا پلان شیئر کردیا، پہلے مرحلے میں فیسکو، گیپکو اور آئیسکو کی نجکاری مارچ 2027 تک مکمل کرنے کا ہدف مقرر ہے

Web Desk4 اکتوبر، 2026
ایران کو امریکا کی نئی تجاویز موصول، جوہری معاملے پر توجہ؛ تہران کا آبنائے ہرمز پر مذاکرات پر زور
تازہ ترین

ایران کو امریکا کی نئی تجاویز موصول، جوہری معاملے پر توجہ؛ تہران کا آبنائے ہرمز پر مذاکرات پر زور

ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے نئی امریکی تجاویز موصول ہونے کی تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ تجویز کی بنیادی توجہ جوہری معاملے پر ہے، جبکہ تہران آبنائے ہرمز کو مذاکرات میں شامل کرنا چاہتا ہے

Web Desk4 اکتوبر، 2026