پاکستان مخالف سرگرمیوں پر برطانیہ متحرک، اپنی سرزمین کے استعمال سے متعلق تحقیقات کا آغاز

برطانوی حکومت نے پاکستان اور پاکستانی اداروں کے خلاف اپنی سرزمین کے ممکنہ استعمال سے متعلق تحقیقات شروع کر دیں۔ ہوم آفس کے مطابق نفرت انگیز مظاہروں، دھمکی آمیز رویوں اور قانون شکنی کے خلاف سخت کارروائی ہوگی، جبکہ احتجاج اور آزادیٔ اظہار سے متعلق قوانین کا بھی جامع جائزہ لیا جا رہا ہے
لندن: برطانوی حکومت نے پاکستان اور پاکستانی ریاستی اداروں کے خلاف اپنی سرزمین کے ممکنہ استعمال سے متعلق خدشات پر تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے، جبکہ احتجاج، آزادیٔ اظہار اور نفرت انگیز سرگرمیوں سے متعلق قوانین کا بھی ازسرِ نو جائزہ لیا جا رہا ہے۔
برطانوی ہوم آفس کے مطابق برطانیہ میں پرامن احتجاج اور آزادیٔ اظہار بنیادی حقوق ضرور ہیں، تاہم یہ حقوق مطلق نہیں اور ان کی واضح قانونی حدود موجود ہیں۔ حکومت کا کہنا ہے کہ احتجاج صرف قانون کے دائرے میں رہ کر کیا جا سکتا ہے، جبکہ تشدد، دھمکی، خوف و ہراس پھیلانے یا عوام کو ہراساں کرنے کی کسی صورت اجازت نہیں دی جائے گی۔
ہوم آفس نے واضح کیا کہ آزادیٔ اظہار کا حق نفرت انگیزی، تشدد پر اکسانے یا مجرمانہ سرگرمیوں تک نہیں پھیلتا۔ ایسے مظاہرے یا اجتماعات جو قانون کی خلاف ورزی کریں، ان کے خلاف پولیس کو مکمل قانونی اختیارات حاصل ہیں۔
برطانوی حکومت کے مطابق عوام میں خوف، بے چینی یا عدم تحفظ پیدا کرنے والے مظاہروں پر قانونی پابندیاں عائد کی جا سکتی ہیں، جبکہ نفرت انگیز جرائم اور دھمکی آمیز رویوں کے خلاف قانون پر سختی سے عمل درآمد کیا جائے گا۔
حکومت نے کہا کہ پرامن احتجاج کے حق اور عوامی تحفظ کے درمیان توازن برقرار رکھنا ریاست کی ذمہ داری ہے۔ اسی مقصد کے تحت احتجاج اور نفرت انگیز جرائم سے متعلق قوانین کا جامع جائزہ لیا جا رہا ہے۔
اس سلسلے میں برطانوی حکومت نے لارڈ میکڈونلڈ کی سربراہی میں ایک خصوصی ریویو کرایا، جس میں آزادیٔ اظہار، پرامن احتجاج اور عوامی تحفظ کے درمیان قانونی توازن کا جائزہ لیا گیا۔ ریویو میں یہ بھی دیکھا جا رہا ہے کہ آیا موجودہ قوانین نفرت انگیز تقاریر، دھمکی آمیز رویوں اور عوام کو ہراساں کرنے والے اقدامات سے مؤثر تحفظ فراہم کر رہے ہیں یا نہیں۔
برطانوی حکومت کے مطابق لارڈ میکڈونلڈ کی رپورٹ حکومت کو موصول ہو چکی ہے اور اس کا تفصیلی جائزہ لیا جا رہا ہے۔ رپورٹ کی اشاعت اور باضابطہ حکومتی ردعمل آئندہ مرحلے میں سامنے لایا جائے گا۔
Web Desk
Media Channel
شائع ہوا: 17 جولائی، 2026 کو 03:17 PM
آخری تدوین: 17 جولائی، 2026



