ایران میں حکومت کی تبدیلی کے لیے زمینی فوج نہیں بھیجیں گے، فیصلہ ایرانی عوام کا ہوگا: جے ڈی وینس

امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے کہا ہے کہ امریکا ایران میں حکومت کی تبدیلی کے لیے زمینی فوج نہیں بھیجے گا۔
واشنگٹن: امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے واضح کیا ہے کہ امریکا ایران میں حکومت کی تبدیلی کے لیے زمینی فوج نہیں بھیجے گا اور اگر ایرانی عوام اپنے سیاسی نظام میں تبدیلی چاہتے ہیں تو یہ ان کا اپنا فیصلہ ہوگا۔
ایک پوڈکاسٹ انٹرویو میں گفتگو کرتے ہوئے جے ڈی وینس نے کہا کہ ایران کے ساتھ جاری تنازع کا مستقل حل فوجی کارروائی نہیں بلکہ مذاکرات، سفارت کاری اور ایک مؤثر معاہدے میں پوشیدہ ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایران سے مذاکرات کی مخالفت کرنے والوں کے پاس مسلسل اور غیر مؤثر بمباری کے علاوہ کوئی حقیقت پسندانہ حکمت عملی موجود نہیں۔
انہوں نے کہا کہ ایران کی جوہری تنصیبات کو نشانہ بنانا امریکا کا ایک قلیل مدتی مقصد تھا، جبکہ واشنگٹن کی بنیادی ترجیح آبنائے ہرمز کو کھلا رکھنا اور عالمی سطح پر تیل و گیس کی بلا تعطل ترسیل کو یقینی بنانا ہے تاکہ عالمی معیشت متاثر نہ ہو۔
جے ڈی وینس نے دعویٰ کیا کہ اسرائیلی حکومت کے بعض عناصر نے ایران کے ساتھ ممکنہ معاہدے کو ناکام بنانے کے لیے امریکا میں غیر ملکی اثر و رسوخ کی مہم پر بھاری سرمایہ خرچ کیا۔ تاہم انہوں نے کہا کہ وہ ہر صورت امریکی مفادات کو اولین ترجیح دیں گے۔
جو روگن پوڈکاسٹ میں تقریباً تین گھنٹے طویل گفتگو کے دوران امریکی نائب صدر نے یہ بھی الزام عائد کیا کہ اسرائیل امریکا میں رائے عامہ کو متاثر کرکے ایران کے خلاف جنگ کو غیر معینہ مدت تک جاری رکھنے کی کوشش کر رہا ہے۔
انٹرویو کے دوران جے ڈی وینس نے اسرائیل پر تنقید کرتے ہوئے جیفری ایپسٹین کے حوالے سے بھی متنازعٰ دعویٰ کیا اور کہا کہ اس کے اسرائیلی انٹیلی جنس کے اعلیٰ حلقوں سے تعلقات تھے۔
دوسری جانب امریکی میڈیا میں اس سے قبل یہ دعویٰ سامنے آیا تھا کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ ایران میں زمینی فوج بھیجنے کے امکان پر غور کر رہے ہیں، تاہم جے ڈی وینس کے حالیہ بیان کو اس مؤقف سے مختلف قرار دیا جا رہا ہے۔
Web Desk
Media Channel
شائع ہوا: 16 جولائی، 2026 کو 12:26 PM
آخری تدوین: 16 جولائی، 2026



