امریکی میڈیا کا دعویٰ: صدر ٹرمپ ایران میں زمینی فوج بھیجنے کے آپشن پر غور کر رہے ہیں

امریکی اخبار نے دعویٰ کیا ہے کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ ایران میں زمینی فوج بھیجنے اور آبنائے ہرمز کے قریب ایرانی جزائر پر قبضے کے آپشن پر غور کر رہے ہیں، تاہم اس حوالے سے کوئی سرکاری تصدیق سامنے نہیں آئی
(واشنگٹن )ایک امریکی اخبار نے امریکی حکام کے حوالے سے دعویٰ کیا ہے کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ ایران کے خلاف ممکنہ عسکری اقدامات کے مختلف آپشنز پر غور کر رہے ہیں، جن میں زمینی فوج تعینات کرنے اور آبنائے ہرمز کے قریب واقع ایرانی جزائر پر کنٹرول حاصل کرنے کی تجویز بھی شامل ہے۔
رپورٹ کے مطابق امریکی حکام کا کہنا ہے کہ وائٹ ہاؤس ایران کے ساتھ جاری کشیدگی کے تناظر میں مختلف عسکری اور سفارتی امکانات کا جائزہ لے رہا ہے، تاہم اس حوالے سے کسی حتمی فیصلے یا باضابطہ اعلان کی تصدیق نہیں کی گئی۔
دوسری جانب صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے تازہ بیان میں کہا کہ ایران کو جلد شکست دی جائے گی۔ ان کے بقول ایران مذاکرات کا خواہاں ہے اور معاملہ طے کرنا چاہتا ہے، جبکہ امریکا اس بات کا جائزہ لے گا کہ آیا ایران کے ساتھ کسی ممکنہ سمجھوتے کی گنجائش موجود ہے یا نہیں۔
اس سے قبل بھی صدر ٹرمپ نے کہا تھا کہ انہیں ڈیڈ لائن دینا پسند نہیں اور ایران کو اپنا رویہ بہتر بنانا چاہیے۔
امریکا اور ایران کے درمیان حالیہ ہفتوں میں سفارتی اور عسکری کشیدگی میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے، جس کے باعث خطے کی صورتحال پر عالمی برادری کی گہری نظر ہے۔ امریکی اخبار کی رپورٹ بھی اسی تناظر میں سامنے آئی ہے، تاہم زمینی فوج بھیجنے یا ایرانی جزائر پر قبضے کے حوالے سے امریکی حکومت کی جانب سے تاحال کوئی باضابطہ تصدیق جاری نہیں کی گئی۔
Web Desk
Media Channel
شائع ہوا: 16 جولائی، 2026 کو 06:55 AM
آخری تدوین: 16 جولائی، 2026



