11 سال پرانی تصاویر میں چھپا نیا سیارہ دریافت، ماہرینِ فلکیات بھی حیران رہ گئے

ماہرینِ فلکیات نے 11 سال پرانی تصاویر کا دوبارہ تجزیہ کرتے ہوئے زمین سے 63 نوری سال دور ایک نیا سیارہ دریافت کر لیا۔ تحقیق کے مطابق یہ براہِ راست تصویربندی کیے جانے والے اب تک کے سب سے مدھم سیاروں میں شمار ہوتا ہے اور اس دریافت نے سائنس دانوں کو حیران کر دیا
ایڈنبرا: ماہرینِ فلکیات نے شمسی نظام سے باہر ایک نئے سیارے کا انکشاف کیا ہے، جو زمین سے براہِ راست تصویربندی کیے جانے والے اب تک کے سب سے مدھم سیاروں میں شمار کیا جا رہا ہے۔
تحقیق کے مطابق حیران کن بات یہ ہے کہ یہ سیارہ کم از کم 11 سال پرانی فلکیاتی تصاویر میں موجود تھا، تاہم اس کی شناخت جدید تجزیاتی طریقوں کی بدولت اب ممکن ہو سکی۔ اس دریافت کی تفصیلات سائنسی جریدے دی ایسٹرو فزیکل جرنل لیٹرز میں شائع کی گئی ہیں۔
تحقیق کے شریک سربراہ اور یونیورسٹی آف ایڈنبرا کے ماہر فلکیات بین سٹلیف نے بتایا کہ یہ دریافت مکمل طور پر غیر متوقع تھی۔ ان کے مطابق تحقیقاتی ٹیم دراصل بیٹا پکٹورس نامی ستارے کے گرد گردش کرنے والے ایک پہلے سے معلوم سیارے کا مشاہدہ کر رہی تھی تاکہ اس میں وقت کے ساتھ آنے والی تبدیلیوں کا جائزہ لیا جا سکے، لیکن تصاویر کے تفصیلی تجزیے کے دوران ایک اور نامعلوم سیارہ سامنے آ گیا۔
مطالعے کے شریک سربراہ مارکس بونسے کے مطابق تصاویر کا جائزہ لیتے ہوئے اچانک محسوس ہوا کہ وہاں ایک اور فلکیاتی جسم بھی موجود ہے۔ اس کے بعد تحقیقاتی ٹیم نے یورپی جنوبی رصدگاہ کے محفوظ شدہ ریکارڈ کا دوبارہ جائزہ لیا، جہاں انہیں کم از کم 11 سال پرانی تصاویر میں بھی یہی سیارہ نظر آیا۔
ماہرین کے مطابق یہ نیا سیارہ زمین سے تقریباً 63 نوری سال کے فاصلے پر واقع ہے اور اپنی ساخت کے اعتبار سے نظامِ شمسی کے دیو ہیکل گیس سیاروں، یعنی مشتری اور زحل، سے مشابہت رکھتا ہے۔
سائنس دانوں کا کہنا ہے کہ اتنے مدھم سیارے کی براہِ راست تصویر حاصل کرنا ایک غیر معمولی کامیابی ہے، کیونکہ اپنے انتہائی روشن ستارے کے قریب موجود ایسے سیاروں کو دیکھنا جدید ترین دوربینوں اور پیچیدہ تجزیاتی تکنیکوں کے باوجود انتہائی مشکل تصور کیا جاتا ہے۔
Web Desk
Media Channel
شائع ہوا: 16 جولائی، 2026 کو 01:00 PM
آخری تدوین: 16 جولائی، 2026



