آبنائے ہرمز میں کشیدگی کے بعد امریکہ اور ایران وقتی طور پر پیچھے ہٹنے پر آمادہ، مذاکرات دوبارہ شروع ہونے کا امکان

امریکہ اور ایران نے آبنائے ہرمز میں کشیدگی عارضی طور پر کم کرنے پر اتفاق کرتے ہوئے مزید فوجی کارروائی روکنے اور مذاکرات جاری رکھنے کا فیصلہ کیا ہے۔
(واشنگٹن) امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ کے ایک سینئر عہدیدار نے کہا ہے کہ آبنائے ہرمز کے قریب گزشتہ کئی روز سے جاری فوجی جھڑپوں کے بعد امریکہ اور ایران نے فی الحال مزید کارروائی نہ کرنے پر اتفاق کیا ہے۔
امریکی عہدیدار کے مطابق، "دونوں فریق ابھی کے لیے پیچھے ہٹ جائیں گے اور بحری جہاز آبنائے ہرمز سے آزادانہ آمد و رفت جاری رکھ سکیں گے۔" تاہم ایرانی حکومت کی جانب سے اس پیش رفت کی باضابطہ تصدیق ابھی تک سامنے نہیں آئی۔
رپورٹس کے مطابق، امریکہ اور ایران کے حکام منگل کو قطر کے دارالحکومت دوحہ میں مزید مذاکرات کریں گے، جہاں آبنائے ہرمز میں کشیدگی کم کرنے اور دیگر متنازع امور، خصوصاً ایران کے جوہری پروگرام، پر بات چیت متوقع ہے۔
ٹرمپ انتظامیہ کے ایک اور سینئر عہدیدار نے بتایا کہ دونوں ممالک کے درمیان طے پانے والی مفاہمتی یادداشت (MoU) پر عمل درآمد سے متعلق تکنیکی مذاکرات بدستور شیڈول کے مطابق جاری ہیں اور کشیدگی سے بچاؤ کے لیے رابطے کے ذرائع بھی فعال ہیں۔
گزشتہ چند روز کے دوران آبنائے ہرمز میں امریکی اور ایرانی افواج کے درمیان جوابی کارروائیوں سے خطے میں کشیدگی میں اضافہ ہوا تھا، جس کے باعث عالمی توانائی کی سپلائی اور تجارتی جہاز رانی کے حوالے سے خدشات پیدا ہوگئے تھے۔ تاہم تازہ پیش رفت کو دونوں ممالک کے درمیان تناؤ میں عارضی کمی کی جانب ایک اہم قدم قرار دیا جا رہا ہے۔
Web Desk
Media Channel
شائع ہوا: 29 جون، 2026 کو 05:49 AM
آخری تدوین: 29 جون، 2026



