کراچی: رینجرز کیمپ حملہ کیس، گرفتار زخمی ملزم کا اعترافی بیان سامنے آگیا، افغان شہری ہونے کا دعویٰ

کراچی میں رینجرز کے کیمپ پر حملے کے مقدمے میں گرفتار زخمی ملزم کا مبینہ اعترافی بیان سامنے آگیا۔ آئی ایس پی آر کے مطابق حملہ آور جماعت الاحرار سے وابستہ تھے، جبکہ حملے میں 3 دہشت گرد ہلاک، ایک گرفتار اور 3 رینجرز اہلکار شہید ہوئے
(کراچی) کراچی میں پاکستان رینجرز کے کیمپ پر ناکام حملے کے مقدمے میں گرفتار زخمی ملزم کا مبینہ اعترافی بیان سامنے آ گیا ہے۔ پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق حملہ آور کالعدم تنظیم جماعت الاحرار سے وابستہ تھے، جبکہ گرفتار ملزم نے خود کو افغانستان کے شہر جلال آباد کا رہائشی بتایا ہے۔
حکام کے مطابق مبینہ اعترافی بیان میں گرفتار ملزم، جس نے اپنا نام عثمان علی بتایا، نے دعویٰ کیا کہ وہ افغانستان کے علاقے جلال آباد سے پاکستان آیا تھا۔ اس کے مطابق اس کے ساتھ عبدالہادی، جانان اور عمر فاروق نامی تین دیگر افراد بھی موجود تھے، جن میں سے عبدالہادی حملے کے دوران مارا گیا۔
ملزم نے مزید دعویٰ کیا کہ وہ اور اس کے ساتھی تقریباً سات روز قبل پاکستان میں داخل ہوئے تھے۔ اس کے مطابق انہیں ایک زیرِ تعمیر عمارت میں رکھا گیا جبکہ حملے میں استعمال ہونے والا اسلحہ عبدالہادی وزیرستان سے لایا تھا۔
مبینہ اعترافی بیان کے مطابق ملزم نے خود کو جماعت الاحرار سے وابستہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ تنظیم کے ارکان کو افغانستان میں تربیت دی گئی تھی۔ اس نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ حملے کے بعد فرار ہونے کی کوشش کے دوران وہ زخمی ہو کر گرفتار ہوا۔
دوسری جانب دفاعی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ پاکستان ماضی میں بھی افغان سرزمین کو سرحد پار دہشت گردی کے لیے استعمال کیے جانے کے حوالے سے خدشات اور شواہد افغان حکام کے سامنے اٹھاتا رہا ہے۔ تاہم اس معاملے پر مختلف فریقین کے مؤقف موجود ہیں۔
آئی ایس پی آر کے مطابق کراچی میں رینجرز کے کیمپ پر حملے کی کوشش کو بروقت کارروائی کے ذریعے ناکام بنا دیا گیا۔ بیان کے مطابق تین حملہ آور مارے گئے جبکہ ایک زخمی حالت میں گرفتار کیا گیا۔ فائرنگ کے تبادلے میں پاکستان رینجرز کے تین اہلکار شہید اور تین دیگر زخمی ہوئے۔
Web Desk
Media Channel
شائع ہوا: 29 جون، 2026 کو 04:42 AM
آخری تدوین: 29 جون، 2026



