مذاکرات ناکام ہوئے تو ایران پر دوبارہ حملے کے لیے تیار ہیں، امریکی وزیر دفاع

امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگستھ نے کہا ہے کہ اگر ایران کے ساتھ مذاکرات ناکام ہوئے تو امریکا دوبارہ فوجی کارروائی کے لیے تیار ہے۔ انہوں نے اتحادی ممالک سے دفاعی اخراجات بڑھانے کا مطالبہ بھی کیا۔
(سنگاپور)امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگستھ نے خبردار کیا ہے کہ اگر ایران کے ساتھ جاری سفارتی مذاکرات ناکام ہو گئے تو امریکا دوبارہ فوجی کارروائی کرنے کے لیے مکمل طور پر تیار ہے۔
سنگاپور میں شانگری لا ڈائیلاگ سے خطاب کرتے ہوئے پیٹ ہیگستھ نے کہا کہ امریکا ضرورت پڑنے پر دوبارہ جنگی کارروائی کی صلاحیت رکھتا ہے اور واشنگٹن ایران کے ساتھ ایک مضبوط اور مؤثر معاہدہ چاہتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ایران کے ساتھ ہونے والی کوئی بھی ایسی ڈیل قابل قبول ہوگی جو اسے جوہری ہتھیار حاصل کرنے سے روکے۔ ان کا کہنا تھا کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ اب بھی سفارتی حل کو ترجیح دے رہے ہیں، تاہم تمام آپشنز میز پر موجود ہیں۔
امریکی وزیر دفاع نے دفاعی اخراجات کے حوالے سے کہا کہ امریکا رواں سال دفاعی شعبے میں 1.5 ٹریلین ڈالر کی سرمایہ کاری کرے گا، جبکہ اتحادی ممالک سے بھی مطالبہ کیا جائے گا کہ وہ اپنی مجموعی قومی پیداوار کا کم از کم 3.5 فیصد دفاع پر خرچ کریں۔
پیٹ ہیگستھ نے خبردار کیا کہ جو اتحادی ممالک دفاعی تعاون اور اخراجات میں مناسب حصہ نہیں ڈالیں گے، ان کے ساتھ امریکا کے تعلقات اور معاملات میں واضح تبدیلی آ سکتی ہے۔
انہوں نے جاپان کو امریکا کا اہم اتحادی قرار دیتے ہوئے کہا کہ واشنگٹن کو اپنے جاپانی اتحادیوں سے بلند توقعات وابستہ ہیں اور مشترکہ سلامتی کے لیے تمام شراکت داروں کو اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔
ہیگستھ کے مطابق یورپی اتحادی بھی اب دفاعی صلاحیتوں میں اضافے کے لیے تیزی سے اقدامات کر رہے ہیں، جبکہ تائیوان کو ہتھیاروں کی فروخت سے متعلق حتمی فیصلہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کریں گے۔
Web Desk
Media Channel
شائع ہوا: 30 مئی، 2026 کو 08:53 AM
آخری تدوین: 30 مئی، 2026



