امریکی سینیٹ نے ایران کے خلاف نئی جنگی کارروائیوں کو محدود کرنے کی قرارداد منظور کر لی
محمد نعیم اختر
امریکی سینیٹ نے ایران کے خلاف نئی فوجی کارروائیوں سے قبل کانگریس کی منظوری لازمی قرار دینے کی قرارداد منظور کر لی۔ چند ریپبلکن سینیٹرز نے بھی ڈیموکریٹس کا ساتھ دیا
(واشنگٹن) امریکی سینیٹ نے ایران کے خلاف جاری امریکی فوجی کارروائیوں اور بحری ناکہ بندی کو محدود کرنے سے متعلق ایک اہم قرارداد 47 کے مقابلے میں 50 ووٹوں سے منظور کر لی ہے، جس کے تحت صدر ٹرمپ کو ایران کے خلاف کسی بھی نئی جنگی کارروائی سے قبل کانگریس سے باقاعدہ منظوری لینا ہوگی۔
امریکی میڈیا رپورٹس کے مطابق قرارداد کی منظوری میں چند ریپبلکن سینیٹرز نے بھی ڈیموکریٹس کا ساتھ دیا، جس کے باعث یہ قرارداد سینیٹ سے منظور ہو سکی۔ قرارداد کے حامی اراکین کا کہنا تھا کہ امریکی آئین کے تحت کسی بھی بڑے فوجی اقدام کے لیے کانگریس کی اجازت ضروری ہے اور جنگ جیسے فیصلے صرف صدر کے اختیار میں نہیں ہونے چاہییں۔
رپورٹس کے مطابق اب یہ قرارداد امریکی ایوان نمائندگان میں پیش کی جائے گی جہاں اس پر ووٹنگ متوقع ہے۔ اگر ایوان نمائندگان بھی اس کی منظوری دے دیتا ہے تو صدر ٹرمپ پر ایران کے خلاف مزید فوجی کارروائیوں کے حوالے سے سیاسی دباؤ میں اضافہ ہو سکتا ہے، تاہم صدر کی جانب سے ویٹو کیے جانے کا امکان بھی موجود ہے۔
کانگریس کے متعدد اراکین نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ ایران اور امریکہ کے درمیان بڑھتی کشیدگی، خطے میں امریکی فوجی موجودگی اور بحری نقل و حرکت صورتحال کو مزید حساس بنا رہی ہے، اس لیے ایسے اہم فیصلوں میں منتخب نمائندوں کی شمولیت ضروری ہے۔
یاد رہے کہ حالیہ مہینوں میں ایران اور امریکہ کے تعلقات میں شدید تناؤ دیکھنے میں آیا ہے، جبکہ امریکی بحری ناکہ بندی اور خطے میں فوجی سرگرمیوں پر عالمی سطح پر بھی تنقید کی جا رہی ہے۔

محمد نعیم اختر
محمد نعیم اختر، واشنگٹن ڈی سی میں وائسز آف امریکا کیلئے بطور بیوروچیف فرائض انجام دے رہے ہیں
شائع ہوا: 20 مئی، 2026 کو 04:38 AM
آخری تدوین: 20 مئی، 2026



