وائسز آف امریکا
تازہ خبریں
امریکا

ٹرمپ انتظامیہ کا جرمنی سے 5 ہزار امریکی فوجیوں کے انخلا کا فیصلہ

W
Web Desk
2 مئی، 2026
 ٹرمپ انتظامیہ کا جرمنی سے 5 ہزار امریکی فوجیوں کے انخلا کا فیصلہ

صدر ٹرمپ یورپی ممالک کی جانب سے امریکا اور ایران کے درمیان جاری جنگ میں محدود تعاون پر سخت برہم ہیں

( واشنگٹن / نمائندہ خصوصی ) امریکی محکمہ دفاع پینٹاگون نے جرمنی سے تقریباً 5 ہزار امریکی فوجیوں کو واپس بلانے کا منصوبہ تیار کر لیا ہے۔ سینئر دفاعی حکام کے مطابق یہ اقدام صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی یورپی اتحادیوں، خصوصاً جرمنی، سے ناراضی کا اظہار سمجھا جا رہا ہےمیڈیا رپورٹس کے مطابق صدر ٹرمپ یورپی ممالک کی جانب سے امریکا اور ایران کے درمیان جاری جنگ میں محدود تعاون پر سخت برہم ہیں۔ صدر ٹرمپ نے جرمن چانسلر فریڈریچ مرز اور دیگر نیٹو رہنماؤں کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا تھا کہ انہوں نے ایران کے خلاف امریکی فوجی مہم میں براہِ راست کردار ادا نہیں کیا۔

جرمنی میں امریکی فوج کی موجودگی دوسری عالمی جنگ اور سرد جنگ کے دور سے قائم ہے۔ امریکی محکمہ دفاع کے اعداد و شمار کے مطابق گزشتہ دسمبر تک جرمنی میں 36 ہزار سے زائد فعال امریکی فوجی، تقریباً 1,500 ریزرو اہلکار اور 11,500 سویلین تعینات تھے۔ جاپان کے بعد جرمنی وہ ملک ہے جہاں امریکی فوجیوں کی سب سے بڑی تعداد موجود ہے۔

جرمنی میں امریکی یورپی کمانڈ اور افریقی کمانڈ کے ہیڈکوارٹرز بھی قائم ہیں جبکہ رامسٹین ایئر بیس امریکی فوجی آپریشنز کے لیے ایک اہم مرکز سمجھا جاتا ہے۔

دفاعی حکام کے مطابق یورپ سے نکالے جانے والے بعض فوجیوں کو امریکا واپس لا کر بعد میں دیگر علاقوں، خصوصاً انڈو پیسیفک خطے، میں تعینات کیا جا سکتا ہے۔ حکام نے واضح کیا کہ اس فیصلے سے جرمنی میں واقع لینڈ اسٹول ریجنل میڈیکل سینٹر کی سرگرمیاں متاثر نہیں ہوں گی، جہاں ایرانی حملوں میں زخمی ہونے والے امریکی فوجیوں کا علاج کیا جاتا ہے۔

پینٹاگون کے ترجمان شان پارنیل نے کہا کہ فوجیوں کے انخلا کا عمل آئندہ 6 سے 12 ماہ کے دوران مکمل کیا جائے گا۔ ان کے مطابق یہ فیصلہ یورپ میں امریکی فوجی پوزیشن کا تفصیلی جائزہ لینے کے بعد کیا گیا ہے۔

صدر ٹرمپ نے حالیہ دنوں میں جرمن چانسلر مرز پر سخت تنقید کی تھی، جب مرز نے کہا تھا کہ ایران کے معاملے پر “امریکیوں کے پاس واضح حکمت عملی نہیں” اور ایرانی مذاکرات کار امریکا کو شرمندہ کر رہے ہیں۔ اس کے جواب میں صدر ٹرمپ نے کہا کہ مرز “نہیں جانتے کہ وہ کیا کہہ رہے ہیں” اور وہ ایران کے جوہری خطرے کے خاتمے کی کوششوں میں مداخلت کر رہے ہیں۔

امریکا اور اس کے کئی نیٹو اتحادیوں کے درمیان ایران جنگ کے معاملے پر اختلافات بھی کھل کر سامنے آئے ہیں۔ بیشتر یورپی ممالک نے جنگ میں براہِ راست شامل ہونے سے گریز کیا ہے جبکہ توانائی کی بڑھتی قیمتوں اور ایندھن کی ترسیل میں رکاوٹوں پر تشویش ظاہر کی ہے۔

صدر ٹرمپ ماضی میں بھی نیٹو اتحاد پر تنقید کرتے رہے ہیں۔ وہ اتحادی ممالک پر اپنے دفاعی اخراجات کم رکھنے اور امریکا پر زیادہ انحصار کرنے کا الزام لگاتے رہے ہیں۔ ٹرمپ اپنے پہلے دورِ صدارت کے اختتام پر بھی جرمنی سے ہزاروں امریکی فوجیوں کے انخلا کی تجویز دے چکے تھے، تاہم سابق صدر جوبائیڈن نے اقتدار میں آنے کے بعد اس منصوبے کو منسوخ کر دیا تھا۔

شیئر کریں:
W
Web Desk

Media Channel

شائع ہوا: 2 مئی، 2026 کو 12:10 AM

آخری تدوین: 2 مئی، 2026

متعلقہ مضامین

’’بڑا فیصلہ کرنے جا رہا ہوں، ایران کو تباہ کروں یا دوبارہ پنپنے دوں‘‘ ٹرمپ کی ایران کو دھمکی
امریکا

’’بڑا فیصلہ کرنے جا رہا ہوں، ایران کو تباہ کروں یا دوبارہ پنپنے دوں‘‘ ٹرمپ کی ایران کو دھمکی

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب میں ایران کے حوالے سے سخت بیان دیتے ہوئے کہا کہ وہ بڑا فیصلہ کرنے جا رہے ہیں کہ ایران کو تباہ کیا جائے یا اسے دوبارہ پنپنے کا موقع دیا جائے۔ ٹرمپ نے ایران کے جوہری پروگرام، معیشت، آبنائے ہرمز اور ممکنہ معاہدے پر بھی اہم باتیں کیں۔ امریکی صدر نے مڈٹرم انتخابات کے بعد ایران سے ڈیل کی توقع ظاہر کی اور بین الاقوامی فوجداری عدالت سے ممالک کو علیحدگی اختیار کرنے کا مطالبہ بھی کیا

Web Desk22 ستمبر، 2026
ٹرمپ اور شی جن پنگ کی 24 ستمبر کو واشنگٹن میں اہم ملاقات، تجارت سمیت کئی معاملات ایجنڈے پر
امریکا

ٹرمپ اور شی جن پنگ کی 24 ستمبر کو واشنگٹن میں اہم ملاقات، تجارت سمیت کئی معاملات ایجنڈے پر

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور چینی صدر شی جن پنگ کے درمیان 24 ستمبر کو واشنگٹن میں اہم ملاقات ہوگی۔ ملاقات میں امریکا چین تجارت، تجارتی جنگ بندی، تائیوان، مصنوعی ذہانت، سپلائی چینز اور ایران کی صورتحال پر بات چیت متوقع ہے۔ رائٹرز کے مطابق ملاقات سے کسی بڑے معاہدے کے بجائے دونوں ممالک کے تعلقات میں استحکام اور تجارتی کشیدگی برقرار رکھنے پر توجہ کی توقع ہے

Web Desk22 ستمبر، 2026
صحافیوں کے وائٹ ہاؤس میں داخلے پر پابندی، امریکا کے بڑے ٹی وی نیٹ ورکس کا احتجاجاً ٹرمپ کی کوریج پر پابندی کا فیصلہ
تازہ ترین

صحافیوں کے وائٹ ہاؤس میں داخلے پر پابندی، امریکا کے بڑے ٹی وی نیٹ ورکس کا احتجاجاً ٹرمپ کی کوریج پر پابندی کا فیصلہ

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے CNN، MS NOW اور Politico کے صحافیوں کو وائٹ ہاؤس میں داخلے سے روکنے کے بعد امریکی میڈیا اور حکومت کے درمیان تنازع شدت اختیار کرگیا۔ ABC، CBS، CNN، Fox News اور NBC نے وائٹ ہاؤس ٹی وی پول کی صدارتی کوریج عارضی طور پر معطل کردی، جبکہ تینوں متاثرہ میڈیا اداروں نے ٹرمپ انتظامیہ کے خلاف عدالت سے رجوع کرلیا

Web Desk22 ستمبر، 2026