وینزویلا کے صدر کو گرفتار کرنے والی امریکی فورسز کا اہلکار خفیہ کارروائی پر شرط لگا کر 4 لاکھ ڈالر کمانے کے الزام میں گرفتار

ماسٹر سارجنٹ گینن کین وان ڈائک، جو امریکی فوج کے فعال اہلکار ہیں اور نارتھ کیرولائنا کے فورٹ بریگ میں تعینات تھے، نے آن لائن پیشگوئی مارکیٹ پلیٹ فارم "پولی مارکیٹ" پر دسمبر کے آخر میں ایک اکاؤنٹ کھولا اور تقریباً 32 ہزار ڈالر کی شرط لگائی کہ وینزویلا کے صدر نکولس مادورو جنوری تک اقتدار سے باہر ہو جائیں گے
( واشنگٹن ڈی سی / محمد نعیم اختر ) امریکی اسپیشل فورسز کے ایک اہلکار کو وینزویلا کے صدر نکولس ماڈورو کی گرفتاری سے متعلق خفیہ فوجی کارروائی پر مبینہ طور پر شرط لگا کر لاکھوں ڈالر کمانے کے الزام میں گرفتار کر لیا گیا ہے۔
امریکی حکام کے مطابق ماسٹر سارجنٹ گینن کین وان ڈائک، جو امریکی فوج کے فعال اہلکار ہیں اور نارتھ کیرولائنا کے فورٹ بریگ میں تعینات تھے، نے آن لائن پیشگوئی مارکیٹ پلیٹ فارم "پولی مارکیٹ" پر دسمبر کے آخر میں ایک اکاؤنٹ کھولا اور تقریباً 32 ہزار ڈالر کی شرط لگائی کہ وینزویلا کے صدر نکولس مادورو جنوری تک اقتدار سے باہر ہو جائیں گے۔
استغاثہ کے مطابق وان ڈائک خفیہ فوجی آپریشن “آپریشن ایبسولوٹ ریزولو” کی منصوبہ بندی اور عملدرآمد میں شامل تھے اور انہیں کارروائی سے پہلے حساس اور خفیہ معلومات تک رسائی حاصل تھی۔ الزام ہے کہ انہوں نے 27 دسمبر سے 2 جنوری کے درمیان 13 مختلف شرطیں لگائیں، جن میں آخری شرط مادورو کی گرفتاری سے چند گھنٹے قبل لگائی گئی۔
عدالتی دستاویزات کے مطابق امریکی فوج نے بعد ازاں ایک خفیہ کارروائی کے دوران کاراکاس میں صدارتی محل پر چھاپہ مار کر نکولس ماڈورو کو گرفتار کیا اور انہیں منشیات اسمگلنگ سے متعلق مقدمات کا سامنا کرنے کے لیے نیویارک منتقل کیا گیا، جہاں انہوں نے الزامات سے انکار کیا ہے۔
امریکی پراسیکیوٹرز کا کہنا ہے کہ وان ڈائک نے اس شرط سے 4 لاکھ ڈالر سے زائد منافع کمایا اور بعد میں اس رقم کو ایک غیر ملکی کرپٹو کرنسی والٹ میں منتقل کیا تاکہ اس کے اصل ماخذ کو چھپایا جا سکے۔
امریکی میڈیا کے مطابق وان ڈائک پر خفیہ سرکاری معلومات کے غلط استعمال، فراڈ اور چوری سمیت پانچ فوجداری الزامات عائد کیے گئے ہیں۔ امریکی حکام کے مطابق ایسے فوجی افسران پر قومی رازوں کے تحفظ کی ذمہ داری ہوتی ہے اور انہیں ذاتی مالی فائدے کے لیے استعمال نہیں کیا جا سکتا۔
دوسری جانب شرط لگانے والی ویب سائٹ "پولی مارکیٹ" نے ایک بیان میں کہا کہ جیسے ہی پلیٹ فارم کو شبہ ہوا کہ ایک صارف خفیہ حکومتی معلومات کی بنیاد پر تجارت کر رہا ہے، معاملہ فوری طور پر امریکی محکمہ انصاف کو رپورٹ کر دیا گیا۔ کمپنی کا کہنا تھا کہ “انسائیڈر ٹریڈنگ کے لیے ہماری پالیسی میں کوئی جگہ نہیں۔”
اس واقعے کے بعد امریکا میں “پریڈکشن مارکیٹس” یعنی مستقبل کے واقعات پر شرط لگانے والے پلیٹ فارمز کے حوالے سے نئی بحث شروع ہوگئی ہے۔ امریکی کانگریس میں ان پلیٹ فارمز کو مزید سخت قوانین کے تحت لانے کے لیے متعدد بل پیش کیے جا چکے ہیں۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اس معاملے پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ دنیا “ایک بڑے جوئے خانے” میں تبدیل ہوتی جا رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ جغرافیائی اور جنگی معاملات پر شرط لگانے کا بڑھتا رجحان تشویشناک ہے۔
Web Desk
Media Channel
شائع ہوا: 24 اپریل، 2026 کو 01:33 AM
آخری تدوین: 24 اپریل، 2026



