پاکستان کا غزہ میں عالمی قانون کی پاسداری یقینی بنانے، کشمیریوں کے حقِ خودارادیت کا اعادہ

اقوام متحدہ میں پاکستان کے نائب مستقل مندوب عثمان جدون نے غزہ میں شہریوں کے تحفظ، بلا رکاوٹ انسانی امداد اور عالمی قانون کی پاسداری یقینی بنانے پر زور دیا۔ انہوں نے فلسطینی عوام کے حقِ خودارادیت کی حمایت کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ یہی اصول جموں و کشمیر کے عوام پر بھی لاگو ہوتا ہے
اسی موضوع سے پڑھیں
نیویارک: اقوام متحدہ میں پاکستان کے نائب مستقل مندوب عثمان جدون نے غزہ میں شہریوں کے تحفظ، بلا رکاوٹ انسانی امداد کی فراہمی اور عالمی قانون کی پاسداری یقینی بنانے پر زور دیا ہے۔
اقوام متحدہ میں اپنے بیان میں عثمان جدون نے کہا کہ انسانی حقوق کے نظام کی ساکھ اصولوں اور ان پر عملدرآمد کے درمیان خلیج ختم کرنے سے جڑی ہے۔ عالمی قانون اور انسانی حقوق کے اصول ایک جگہ لاگو اور دوسری جگہ نظر انداز کرنا قابل قبول نہیں۔
انہوں نے کہا کہ غزہ میں فلسطینیوں کی مصیبت عالمی برادری کے انسانی حقوق سے عزم کا فیصلہ کن امتحان ہے۔ پاکستان فلسطینی عوام کے ناقابل تنسیخ حقِ خودارادیت کی حمایت کا اعادہ کرتا ہے اور یہی اصول جموں و کشمیر کے عوام پر بھی لاگو ہوتا ہے۔
عثمان جدون نے کہا کہ کشمیری عوام تقریباً آٹھ دہائیوں سے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں پر عملدرآمد کے منتظر ہیں۔
پاکستانی نائب مستقل مندوب نے اسلاموفوبیا، نسل پرستی اور اجنبی بیزاری کے بڑھتے ہوئے رجحانات کا مقابلہ کرنے کی ضرورت پر بھی زور دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ انسانی وقار کا انحصار کسی شخص کے مذہب، قومیت یا شناخت پر نہیں ہونا چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ عالمی برادری کو انسانی حقوق سے متعلق وعدوں اور زمینی حقائق کے درمیان خلیج ختم کرنا ہوگی۔ وقار کا تعین طاقت سے نہیں، انصاف سیاست سے مشروط نہیں اور ترقی کوئی مراعات نہیں۔
عثمان جدون نے زور دیا کہ انسانی حقوق کے اصولوں کا عالمگیر اور بلاامتیاز اطلاق یقینی بنایا جانا چاہیے۔
شائع ہوا: 3 اکتوبر، 2026 کو 05:18 AM
آخری تدوین: 3 اکتوبر، 2026



