پہلگام واقعہ: بھارت ایک سال بعد بھی شواہد پیش نہ کر سکا، عطاء تارڑ

وفاقی وزیر اطلاعات عطاء تارڑ نے کہا ہے کہ بھارت ایک سال گزرنے کے باوجود پہلگام واقعے کے شواہد پیش کرنے میں ناکام رہا ہے اور پاکستان پر الزامات عائد کرنا اس کی پرانی روش ہے۔
(اسلام آباد) پریس کانفرنس کے دوران انہوں نے دعویٰ کیا کہ پہلگام واقعہ دراصل بھارت کا فالس فلیگ آپریشن تھا، جسے سیاسی مقاصد کے حصول کے لیے استعمال کیا گیا۔ ان کا کہنا تھا کہ سکیورٹی کی موجودگی میں اس نوعیت کا واقعہ ہونا بھارت کے لیے باعثِ شرمندگی ہے۔
عطاء تارڑ نے کہا کہ وزیراعظم پاکستان کی جانب سے واقعے کے بعد شفاف تحقیقات کی پیشکش بھی کی گئی، تاہم بھارت کی طرف سے اس پیشکش کا مثبت جواب نہیں دیا گیا۔ انہوں نے مزید کہا کہ آج بھی عالمی برادری بھارت سے سوال کر رہی ہے کہ پہلگام واقعے کی تحقیقات کہاں تک پہنچیں۔
انہوں نے خبردار کیا کہ بھارتی اقدامات سے خطے کی ترقی اور خوشحالی کو سنگین خطرات لاحق ہیں۔ ان کے مطابق پاکستان کو سندھ طاس معاہدہ کی خلاف ورزی کا جواب دینے کا حق حاصل ہے۔
وفاقی وزیر کا کہنا تھا کہ کشمر ایک تسلیم شدہ بین الاقوامی مسئلہ ہے، تاہم بھارت اسے داخلی معاملہ قرار دے کر عالمی توجہ ہٹانے کی کوشش کر رہا ہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ بھارت اپنے اندرونی مسائل کو بیرونی رنگ دے کر پیش کرتا ہے۔
Web Desk
Media Channel
شائع ہوا: 22 اپریل، 2026 کو 07:24 AM
آخری تدوین: 22 اپریل، 2026



