اسلام آباد ہائیکورٹ ججز منتقلی تنازع | بیرسٹر گوہر کا عدلیہ پر انتظامیہ کے کنٹرول کا الزام

بیرسٹر گوہر نے اسلام آباد ہائیکورٹ کے ججز کی دیگر عدالتوں میں منتقلی کو غیرمعمولی اور عدلیہ کی آزادی کے خلاف قرار دے دیا، جوڈیشل کمیشن اجلاس میں شرکت کا اعلان۔
(اسلام آباد) چیئرمین پاکستان تحریک انصاف بیرسٹر گوہر نے اسلام آباد ہائیکورٹ کے ججز کی دیگر عدالتوں میں ممکنہ منتقلی کے معاملے پر شدید تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے اسے عدلیہ کی آزادی کے لیے خطرہ قرار دیا ہے۔
اپنے ایک بیان میں بیرسٹر گوہر کا کہنا تھا کہ وہ اور سینیٹر علی ظفر آج جوڈیشل کمیشن کے اجلاس میں شرکت کریں گے۔ ان کے مطابق اجلاس میں شرکت کا فیصلہ پارٹی کی سیاسی کمیٹی نے کیا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ جوڈیشل کمیشن اسلام آباد ہائیکورٹ کے پانچ ججز کی دیگر ہائیکورٹس میں منتقلی پر غور کرے گا، جسے انہوں نے ایک غیرمعمولی اقدام قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ گزشتہ 50 برسوں میں کسی بھی ہائیکورٹ کے جج کو اس کی رضامندی کے بغیر دوسری ہائیکورٹ منتقل نہیں کیا گیا۔
بیرسٹر گوہر نے اس اقدام کو من مانا، غیرمنصفانہ اور سزا دینے کے مترادف قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ عدلیہ پر انتظامیہ کے کنٹرول کو ظاہر کرتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان میں پہلے ہی عدلیہ تقسیم کا شکار ہے، ایسے میں ججز کو آزادانہ طور پر اپنے فرائض انجام دینے دیا جانا چاہیے۔
انہوں نے واضح کیا کہ ان کی جماعت اس اقدام کی سختی سے مخالفت کرے گی اور عدلیہ کی آزادی کے تحفظ کے لیے ہر ممکن فورم پر آواز اٹھائے گی۔
Web Desk
Media Channel
شائع ہوا: 28 اپریل، 2026 کو 06:19 AM
آخری تدوین: 28 اپریل، 2026



