وائسز آف امریکا
تازہ خبریں
تازہ ترین

امریکا اور ایران مذاکرات کے دوسرے دور کیلئے پُرامید ہوں، وزیراعظم شہباز شریف

W
Web Desk
18 مئی، 2026
امریکا اور ایران مذاکرات کے دوسرے دور کیلئے پُرامید ہوں، وزیراعظم شہباز شریف

وزیراعظم شہباز شریف نے امریکا اور ایران مذاکرات کے دوسرے دور پر امید ظاہر کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان عالمی امن میں اہم ثالثی کردار ادا کر رہا ہے۔ فیلڈ مارشل عاصم منیر اور اسحاق ڈار کی کوششوں کو بھی سراہا گیا

(اسلام آباد) وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ وہ امریکا اور ایران کے درمیان براہ راست مذاکرات کے دوسرے دور اور خطے میں مستقل امن کے قیام کے حوالے سے پُرامید ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان عالمی سطح پر ایک ایماندار ثالث اور قابلِ اعتماد ملک کے طور پر ابھر رہا ہے۔

برطانوی اخبار سنڈے ٹائمز کو دیے گئے انٹرویو میں وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ یہ پاکستان کی تاریخ کے روشن ترین لمحات میں سے ایک ہے اور دنیا بھر میں پاکستان کی ساکھ بہتر ہوئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ 24 کروڑ پاکستانیوں کی طرح انہیں بھی پاکستانی ہونے پر فخر ہے۔

وزیراعظم نے کہا کہ امن کے قیام کیلئے صبر، دانشمندی اور مشکل فیصلوں کی ضرورت ہوتی ہے۔ ان کے مطابق پاکستان اب بھی کوشش کر رہا ہے کہ اسلام آباد میں مذاکرات کا ایک اور دور منعقد ہو تاکہ خطے میں دیرپا امن قائم کیا جا سکے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان کی سیاسی اور عسکری قیادت کے درمیان مضبوط ہم آہنگی کی وجہ سے عالمی برادری کا اعتماد بحال ہوا ہے۔ وزیراعظم کے مطابق ایران، امریکا اور خلیجی ممالک پاکستان پر اعتماد کرتے ہیں جبکہ پاکستان کی جغرافیائی حیثیت بھی انتہائی اہم ہے۔

شہباز شریف نے کہا کہ پاکستان کی ایران کے ساتھ طویل سرحد اور آبنائے ہرمز کے قریب بندرگاہیں عالمی توانائی کی رسد کیلئے اہم کردار رکھتی ہیں۔ انہوں نے خبردار کیا کہ خطے میں جنگ کی صورت میں تیل کی قیمتوں میں اضافہ اور قلت پاکستان کی معیشت کیلئے خطرہ بن سکتی ہے۔

وزیراعظم نے مذاکراتی عمل میں فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کے کردار کو سراہتے ہوئے کہا کہ انہوں نے نہایت اہم کردار ادا کیا جو تاریخ میں یاد رکھا جائے گا۔ انہوں نے نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار کی سفارتی کوششوں کی بھی تعریف کی۔

پاک بھارت کشیدگی کے حوالے سے وزیراعظم نے کہا کہ اگر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ مداخلت نہ کرتے تو جنوبی ایشیا ایک بڑی تباہی کا شکار ہو سکتا تھا۔

دہشت گردی کے مسئلے پر گفتگو کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان اس وقت دہشت گردی کی نئی لہر کا سامنا کر رہا ہے جس میں کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی)، بی ایل اے اور دیگر گروہ شامل ہیں۔

انہوں نے افغانستان میں دہشت گردوں کے ٹھکانوں کے خلاف کارروائی کو مجبوری قرار دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان نے بارہا کابل کو امن کے پیغامات بھیجے لیکن بے گناہ شہریوں کے قتل پر خاموش نہیں رہا جا سکتا۔

وزیراعظم کا کہنا تھا کہ پاکستان دہشت گردی کے خاتمے کیلئے پُرعزم ہے اور یہ جنگ صرف پاکستان نہیں بلکہ پوری دنیا کے امن کیلئے لڑی جا رہی ہے۔

شیئر کریں:
W

Web Desk

Media Channel

شائع ہوا: 18 مئی، 2026 کو 05:49 AM

آخری تدوین: 18 مئی، 2026

متعلقہ مضامین