ایران جوہری پروگرام محدود کرنے پر آمادہ، معاہدے کا امکان بڑھ گیا: ٹرمپ

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران جوہری پروگرام جاری نہ رکھنے سمیت کئی معاملات پر آمادہ ہو چکا ہے۔ ٹرمپ کے مطابق گزشتہ 24 گھنٹوں میں ایران کے ساتھ مثبت بات چیت ہوئی جبکہ تہران نے بھی امریکی تجاویز کا جائزہ لینے کی تصدیق کی ہے۔
(واشنگٹن) امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران جوہری پروگرام جاری نہ رکھنے سمیت کئی اہم معاملات پر آمادہ ہو چکا ہے اور دونوں ممالک کے درمیان ممکنہ معاہدے کے امکانات بڑھ گئے ہیں۔
اوول آفس میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے کہا کہ ایران اب شدت سے معاہدہ چاہتا ہے اور معاملہ انتہائی سادہ ہے کہ ایران کے پاس ایٹمی ہتھیار نہیں ہونے چاہئیں۔
انہوں نے دعویٰ کیا کہ ایران کی فضائیہ اور بحریہ کو شدید نقصان پہنچایا گیا جبکہ ایران کے میزائل اور ریڈار سسٹمز بھی تباہ کر دیے گئے ہیں۔ ٹرمپ کے مطابق ایران کی اعلیٰ قیادت کو بھی نشانہ بنایا جا چکا ہے اور امریکا اس معاملے میں کامیاب پوزیشن میں ہے۔
صدر ٹرمپ نے کہا کہ گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران ایران کے ساتھ مثبت بات چیت ہوئی ہے اور اب یہ ممکن دکھائی دیتا ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان ایک نئی ڈیل طے پا جائے۔ انہوں نے کہا کہ ماضی میں بھی ایران کے ساتھ مثبت پیش رفت ہوئی تھی لیکن بعد میں معاملات آگے نہ بڑھ سکے۔
انہوں نے مزید کہا کہ ایران سے متعلق امریکی مؤقف واضح ہے کہ تہران کو کسی صورت ایٹمی ہتھیار حاصل کرنے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔ ان کے بقول خطے کی صورتحال اب بہتر سمت میں جا رہی ہے۔
امریکی صدر نے مذاکرات سے متعلق امریکی میڈیا میں زیر گردش 30 روزہ مہلت کی رپورٹس پر بھی بات کی اور اشارہ دیا کہ ایسی ڈیڈ لائنز حتمی نہیں ہوتیں اور سفارتی عمل میں لچک موجود رہتی ہے۔
دوسری جانب ایران کی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے تصدیق کی کہ امریکا کی جانب سے دی گئی تجاویز کا جائزہ لیا جا رہا ہے تاکہ جنگ کے خاتمے اور ممکنہ معاہدے کی راہ ہموار کی جا سکے۔
انہوں نے کہا کہ سنجیدہ مذاکرات کے لیے دباؤ یا دھمکیوں کے بجائے خلوص نیت ضروری ہے۔ اسماعیل بقائی کے مطابق امریکی تجاویز پر حتمی رائے قائم ہونے کے بعد متعلقہ ممالک کو اعتماد میں لیا جائے گا۔
Web Desk
Media Channel
شائع ہوا: 7 مئی، 2026 کو 03:07 AM
آخری تدوین: 7 مئی، 2026



