وائسز آف امریکا
تازہ خبریں
دُنیا

امریکا کی معاشی جنگ میں مدد کرنے والے ممالک کے مفادات کو نشانہ بنائیں گے: محسن رضائی

W
Web Desk
23 اگست، 2026
امریکا کی معاشی جنگ میں مدد کرنے والے ممالک کے مفادات کو نشانہ بنائیں گے: محسن رضائی

ایران کے محسن رضائی نے خبردار کیا ہے کہ امریکا کی اقتصادی جنگ میں مدد کرنے والے ممالک کے مفادات کو نشانہ بنایا جا سکتا ہے۔ انہوں نے آبنائے ہرمز اور تیل کی برآمدات سے متعلق بھی سخت بیان دیا

ایران کی سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل کے سیکرٹری جنرل محسن رضائی نے دیگر ممالک کو خبردار کیا ہے کہ وہ ایران کے خلاف امریکی اقتصادی اقدامات میں واشنگٹن کا ساتھ دینے سے گریز کریں، بصورت دیگر ایران ان ممالک کے مفادات کو نشانہ بنا سکتا ہے۔

اپنے بیان میں محسن رضائی نے کہا کہ ایران پر حملوں اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی پالیسیوں نے دنیا کے مختلف ممالک میں جوہری ہتھیار حاصل کرنے کی خواہش میں اضافہ کیا ہے۔ ان کے مطابق یہ رجحان اس وقت مزید بڑھا جب یہ دیکھا گیا کہ بین الاقوامی ایٹمی توانائی ایجنسی (آئی اے ای اے) اور جوہری عدم پھیلاؤ کے معاہدے کی رکنیت امریکی حملوں کو روکنے میں مؤثر ثابت نہیں ہوئی۔

انہوں نے الزام عائد کیا کہ ٹرمپ کی پالیسیوں نے جوہری سلامتی کے بجائے جوہری عدم تحفظ کو فروغ دیا۔ محسن رضائی کے مطابق ایران نے تمام بین الاقوامی حفاظتی اقدامات قبول کیے اور جوہری ضوابط کی پاسداری میں ایران دیگر ممالک سے آگے ہے۔

ایرانی عہدیدار نے کہا کہ ایران کو امریکا کے ساتھ تنازع سے نمٹنے کے طریقہ کار اور اپنے سفارتی طرز عمل میں تبدیلی لانے کی ضرورت ہے۔ ان کے بقول موجودہ ایران جنگ سے پہلے والا ایران نہیں رہا اور حالیہ فوجی تقرریاں اس بات کی نشاندہی کرتی ہیں کہ ملک ہر وقت جنگ کے لیے تیار رہنے کا ارادہ رکھتا ہے۔

محسن رضائی نے کہا کہ ایرانی نوجوانوں میں امریکا کے ایک امن پسند ملک ہونے کا تصور بھی تبدیل ہو چکا ہے۔ ان کے مطابق دنیا ایران کو اب ایک نئے انداز سے دیکھ رہی ہے اور ایران آئندہ جنگ میں اپنے سابقہ تجربات کو استعمال کرتے ہوئے جنگی حکمت عملی میں تبدیلی لائے گا۔

انہوں نے دعویٰ کیا کہ امریکا یہ سمجھتا تھا کہ جنگ ختم ہونے کے بعد ایران کے تیل اور گیس کے وسائل پر قبضہ کیا جا سکے گا، تاہم جنگ کے دوران 1200 آئل ٹینکرز ناقابل استعمال ہوئے اور عالمی فلیٹ کا تقریباً 15 فیصد حصہ متاثر ہوا۔

محسن رضائی نے مزید کہا کہ خلیج فارس اور آبنائے ہرمز سے تیل کی برآمد روک دی جائے گی اور ایران تیل کی برآمد کے دیگر راستوں کو بھی نشانہ بنائے گا۔

ایرانی عہدیدار کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو اسرائیلی وزیراعظم نے ایران کے خلاف اقتصادی جنگ مسلط کرنے پر آمادہ کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ ٹرمپ ابتدا میں شکوک و شبہات کا شکار تھے، تاہم اسرائیلی وزیراعظم نے انہیں یہ اقدام دو سے تین ماہ کے لیے آزمانے اور بعد ازاں اسے مزید چھ ماہ تک جاری رکھنے کا فیصلہ کرنے پر قائل کیا۔

شیئر کریں:
W
Web Desk

Media Channel

شائع ہوا: 23 اگست، 2026 کو 02:56 AM

آخری تدوین: 23 اگست، 2026

متعلقہ مضامین

شام اور اسرائیل کے درمیان اردن میں امریکی ثالثی سے مذاکرات، کشیدگی کم کرنے پر غور
تازہ ترین

شام اور اسرائیل کے درمیان اردن میں امریکی ثالثی سے مذاکرات، کشیدگی کم کرنے پر غور

شام اور اسرائیل کے درمیان اردن میں امریکی ثالثی میں اعلیٰ سطح کے مذاکرات ہوئے، جن میں اسرائیلی حملوں، فوجی کارروائیوں اور کشیدگی کم کرنے کے طریقہ کار پر غور کیا گیا۔ شامی حکام نے گولان کی پہاڑیوں کو مقبوضہ شامی علاقہ قرار دیتے ہوئے اسرائیلی فوج کے انخلا اور 1974 کے معاہدے پر عملدرآمد کا مطالبہ کیا۔ دوسری جانب شامی وزیر خارجہ اسعد الشیبانی کے حالیہ دورہ پاکستان اور وزیراعظم شہباز شریف، فیلڈ مارشل عاصم منیر اور اسحاق ڈار سے ملاقاتوں میں سکیورٹی و اقتصادی تعاون پر بھی اہم بات چیت ہوئی

Web Desk24 اگست، 2026
چین کے 2 بحری جہاز آبنائے ہرمز کے ایرانی علاقے میں داخل، امریکی ناکہ بندی کے باوجود آمدورفت جاری
تازہ ترین

چین کے 2 بحری جہاز آبنائے ہرمز کے ایرانی علاقے میں داخل، امریکی ناکہ بندی کے باوجود آمدورفت جاری

امریکی ناکہ بندی کے باوجود چین کے دو بحری جہاز آبنائے ہرمز کے ایرانی حصے میں داخل ہو گئے۔ شپنگ ڈیٹا کے مطابق ایک چینی پرچم بردار آئل ٹینکر سمیت دو جہاز ایرانی راستہ استعمال کر رہے ہیں۔ تازہ صورتحال سے اشارہ ملتا ہے کہ آبنائے ہرمز کے ذریعے چین کی کچھ بحری اور تجارتی سرگرمیاں اب بھی جاری ہیں

Web Desk24 اگست، 2026
ترکیہ کے ساتھ جنگ کا خطرہ، اسرائیلی اخبار کی نیتن یاہو پر شدید تنقید
تازہ ترین

ترکیہ کے ساتھ جنگ کا خطرہ، اسرائیلی اخبار کی نیتن یاہو پر شدید تنقید

اسرائیلی اخبار ہارٹز نے وزیراعظم نیتن یاہو کو شام میں ایئربیس پر حملے کے فیصلے پر شدید تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ اخبار کے مطابق نیتن یاہو اسرائیل کو ترکیہ کے ساتھ بے مقصد جنگ میں دھکیلنے کا خطرہ مول لے رہے ہیں۔ ترکیہ اور امریکا نے بھی اسرائیلی دعووں کو مسترد کردیا ہے۔

Web Desk24 اگست، 2026