امریکا کی معاشی جنگ میں مدد کرنے والے ممالک کے مفادات کو نشانہ بنائیں گے: محسن رضائی

ایران کے محسن رضائی نے خبردار کیا ہے کہ امریکا کی اقتصادی جنگ میں مدد کرنے والے ممالک کے مفادات کو نشانہ بنایا جا سکتا ہے۔ انہوں نے آبنائے ہرمز اور تیل کی برآمدات سے متعلق بھی سخت بیان دیا
ایران کی سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل کے سیکرٹری جنرل محسن رضائی نے دیگر ممالک کو خبردار کیا ہے کہ وہ ایران کے خلاف امریکی اقتصادی اقدامات میں واشنگٹن کا ساتھ دینے سے گریز کریں، بصورت دیگر ایران ان ممالک کے مفادات کو نشانہ بنا سکتا ہے۔
اپنے بیان میں محسن رضائی نے کہا کہ ایران پر حملوں اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی پالیسیوں نے دنیا کے مختلف ممالک میں جوہری ہتھیار حاصل کرنے کی خواہش میں اضافہ کیا ہے۔ ان کے مطابق یہ رجحان اس وقت مزید بڑھا جب یہ دیکھا گیا کہ بین الاقوامی ایٹمی توانائی ایجنسی (آئی اے ای اے) اور جوہری عدم پھیلاؤ کے معاہدے کی رکنیت امریکی حملوں کو روکنے میں مؤثر ثابت نہیں ہوئی۔
انہوں نے الزام عائد کیا کہ ٹرمپ کی پالیسیوں نے جوہری سلامتی کے بجائے جوہری عدم تحفظ کو فروغ دیا۔ محسن رضائی کے مطابق ایران نے تمام بین الاقوامی حفاظتی اقدامات قبول کیے اور جوہری ضوابط کی پاسداری میں ایران دیگر ممالک سے آگے ہے۔
ایرانی عہدیدار نے کہا کہ ایران کو امریکا کے ساتھ تنازع سے نمٹنے کے طریقہ کار اور اپنے سفارتی طرز عمل میں تبدیلی لانے کی ضرورت ہے۔ ان کے بقول موجودہ ایران جنگ سے پہلے والا ایران نہیں رہا اور حالیہ فوجی تقرریاں اس بات کی نشاندہی کرتی ہیں کہ ملک ہر وقت جنگ کے لیے تیار رہنے کا ارادہ رکھتا ہے۔
محسن رضائی نے کہا کہ ایرانی نوجوانوں میں امریکا کے ایک امن پسند ملک ہونے کا تصور بھی تبدیل ہو چکا ہے۔ ان کے مطابق دنیا ایران کو اب ایک نئے انداز سے دیکھ رہی ہے اور ایران آئندہ جنگ میں اپنے سابقہ تجربات کو استعمال کرتے ہوئے جنگی حکمت عملی میں تبدیلی لائے گا۔
انہوں نے دعویٰ کیا کہ امریکا یہ سمجھتا تھا کہ جنگ ختم ہونے کے بعد ایران کے تیل اور گیس کے وسائل پر قبضہ کیا جا سکے گا، تاہم جنگ کے دوران 1200 آئل ٹینکرز ناقابل استعمال ہوئے اور عالمی فلیٹ کا تقریباً 15 فیصد حصہ متاثر ہوا۔
محسن رضائی نے مزید کہا کہ خلیج فارس اور آبنائے ہرمز سے تیل کی برآمد روک دی جائے گی اور ایران تیل کی برآمد کے دیگر راستوں کو بھی نشانہ بنائے گا۔
ایرانی عہدیدار کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو اسرائیلی وزیراعظم نے ایران کے خلاف اقتصادی جنگ مسلط کرنے پر آمادہ کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ ٹرمپ ابتدا میں شکوک و شبہات کا شکار تھے، تاہم اسرائیلی وزیراعظم نے انہیں یہ اقدام دو سے تین ماہ کے لیے آزمانے اور بعد ازاں اسے مزید چھ ماہ تک جاری رکھنے کا فیصلہ کرنے پر قائل کیا۔
شائع ہوا: 23 اگست، 2026 کو 02:56 AM
آخری تدوین: 23 اگست، 2026



