ایران نے آبنائے ہرمز میں بارودی سرنگیں بچھانا شروع کر دیں، عالمی توانائی رسد کو سنگین خطرات لاحق

ایران نے دنیا کے اہم ترین توانائی راستے آبنائے ہرمز میں بارودی سرنگیں بچھانا شروع کر دی ہیں جس سے عالمی توانائی کی رسد کو نئے خطرات لاحق ہو گئے ہیں۔ امریکی نشریاتی ادارے سی این این کی رپورٹ کے مطابق یہ آبی گزرگاہ عالمی سطح پر منتقل ہونے والے خام تیل کے تقریباً پانچویں حصے کی ترسیل کا مرکزی راستہ ہے۔
رپورٹ کے مطابق امریکی انٹیلیجنس سے واقف دو ذرائع نے بتایا کہ ایران نے حالیہ دنوں میں آبنائے ہرمز میں کئی درجن بارودی سرنگیں نصب کی ہیں، تاہم یہ عمل ابھی بڑے پیمانے پر نہیں ہے۔ ذرائع کے مطابق ایران کے پاس اب بھی 80 سے 90 فیصد چھوٹی کشتیاں اور مائن بچھانے والے جہاز موجود ہیں، جس کے باعث وہ اس آبی گزرگاہ میں سینکڑوں سرنگیں بچھانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ایران کی پاسدارانِ انقلاب اور ایرانی بحریہ اب بھی آبنائے ہرمز پر مؤثر کنٹرول رکھتی ہیں۔ ایران منتشر انداز میں مائن بچھانے والی کشتیوں، دھماکہ خیز مواد سے بھری کشتیوں اور ساحلی میزائل بیٹریوں کے ذریعے ایک خطرناک دفاعی جال بچھانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
ایرانی پاسداران انقلاب (آئی آر جی سی) نے خبردار کیا ہے کہ آبنائے ہرمز سے گزرنے والے کسی بھی جہاز کو نشانہ بنایا جا سکتا ہے۔ انٹیلیجنس ذرائع نے اس صورتحال کے باعث اس آبی راستے کو “موت کی وادی” قرار دیا ہے۔
رپورٹ کے مطابق اب تک امریکی بحریہ نے آبنائے ہرمز سے گزرنے والے کسی بھی جہاز کو باقاعدہ اسکورٹ فراہم نہیں کیا۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے خبردار کیا ہے کہ اگر کسی وجہ سے بارودی سرنگیں بچھائی گئی ہیں اور انہیں فوری طور پر نہ ہٹایا گیا تو ایران کو “ایسے فوجی نتائج کا سامنا کرنا پڑے گا جو پہلے کبھی نہیں دیکھے گئے۔” ان کا کہنا تھا کہ اگر ایران ممکنہ طور پر بچھائی گئی سرنگیں ہٹا دیتا ہے تو یہ درست سمت میں ایک بڑا قدم ہوگا۔
پیر کو ایک پریس کانفرنس میں صدر ٹرمپ نے کہا کہ آبنائے ہرمز محفوظ رہے گی۔ ان کے بقول، “ہمارے پاس وہاں بڑی تعداد میں بحری جہاز موجود ہیں اور بارودی سرنگوں کی جانچ کے لیے دنیا کا بہترین سازوسامان موجود ہے۔”
موجودہ صورتحال کے باعث خلیج میں تقریباً روزانہ 15 ملین بیرل خام تیل اور 4.5 ملین بیرل ریفائنڈ ایندھن کی ترسیل مؤثر طور پر متاثر ہو رہی ہے۔ عراق اور کویت جیسے تیل پیدا کرنے والے ممالک کے پاس آبنائے ہرمز کے علاوہ تیل برآمد کرنے کا کوئی متبادل راستہ نہیں ہے۔
دریں اثنا بڑی معیشتوں کے گروپ جی سیون نے عندیہ دیا ہے کہ وہ ممکنہ قلت کو پورا کرنے کے لیے مزید تیل جاری کرنے پر غور کر سکتے ہیں۔
آبنائے ہرمز کے ذریعے تیل کی ترسیل سے متعلق غیر یقینی صورتحال کے باعث منگل کو عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں شدید اتار چڑھاؤ دیکھا گیا، جہاں فی بیرل قیمت 90 ڈالر سے زیادہ اور 80 ڈالر سے کم کے درمیان مسلسل بدلتی رہی۔
Web Desk
Media Channel
شائع ہوا: 11 مارچ، 2026 کو 06:18 AM
آخری تدوین: 25 مارچ، 2026



