وائسز آف امریکا
تازہ خبریں
امریکا

ایران نے آبنائے ہرمز میں بارودی سرنگیں بچھانا شروع کر دیں، عالمی توانائی رسد کو سنگین خطرات لاحق

W
Web Desk
11 مارچ، 2026
ایران نے آبنائے ہرمز میں بارودی سرنگیں بچھانا شروع کر دیں، عالمی توانائی رسد کو سنگین خطرات لاحق

ایران نے دنیا کے اہم ترین توانائی راستے آبنائے ہرمز میں بارودی سرنگیں بچھانا شروع کر دی ہیں جس سے عالمی توانائی کی رسد کو نئے خطرات لاحق ہو گئے ہیں۔ امریکی نشریاتی ادارے سی این این کی رپورٹ کے مطابق یہ آبی گزرگاہ عالمی سطح پر منتقل ہونے والے خام تیل کے تقریباً پانچویں حصے کی ترسیل کا مرکزی راستہ ہے۔

رپورٹ کے مطابق امریکی انٹیلیجنس سے واقف دو ذرائع نے بتایا کہ ایران نے حالیہ دنوں میں آبنائے ہرمز میں کئی درجن بارودی سرنگیں نصب کی ہیں، تاہم یہ عمل ابھی بڑے پیمانے پر نہیں ہے۔ ذرائع کے مطابق ایران کے پاس اب بھی 80 سے 90 فیصد چھوٹی کشتیاں اور مائن بچھانے والے جہاز موجود ہیں، جس کے باعث وہ اس آبی گزرگاہ میں سینکڑوں سرنگیں بچھانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ایران کی پاسدارانِ انقلاب اور ایرانی بحریہ اب بھی آبنائے ہرمز پر مؤثر کنٹرول رکھتی ہیں۔ ایران منتشر انداز میں مائن بچھانے والی کشتیوں، دھماکہ خیز مواد سے بھری کشتیوں اور ساحلی میزائل بیٹریوں کے ذریعے ایک خطرناک دفاعی جال بچھانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

ایرانی پاسداران انقلاب (آئی آر جی سی) نے خبردار کیا ہے کہ آبنائے ہرمز سے گزرنے والے کسی بھی جہاز کو نشانہ بنایا جا سکتا ہے۔ انٹیلیجنس ذرائع نے اس صورتحال کے باعث اس آبی راستے کو “موت کی وادی” قرار دیا ہے۔

رپورٹ کے مطابق اب تک امریکی بحریہ نے آبنائے ہرمز سے گزرنے والے کسی بھی جہاز کو باقاعدہ اسکورٹ فراہم نہیں کیا۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے خبردار کیا ہے کہ اگر کسی وجہ سے بارودی سرنگیں بچھائی گئی ہیں اور انہیں فوری طور پر نہ ہٹایا گیا تو ایران کو “ایسے فوجی نتائج کا سامنا کرنا پڑے گا جو پہلے کبھی نہیں دیکھے گئے۔” ان کا کہنا تھا کہ اگر ایران ممکنہ طور پر بچھائی گئی سرنگیں ہٹا دیتا ہے تو یہ درست سمت میں ایک بڑا قدم ہوگا۔

پیر کو ایک پریس کانفرنس میں صدر ٹرمپ نے کہا کہ آبنائے ہرمز محفوظ رہے گی۔ ان کے بقول، “ہمارے پاس وہاں بڑی تعداد میں بحری جہاز موجود ہیں اور بارودی سرنگوں کی جانچ کے لیے دنیا کا بہترین سازوسامان موجود ہے۔”

موجودہ صورتحال کے باعث خلیج میں تقریباً روزانہ 15 ملین بیرل خام تیل اور 4.5 ملین بیرل ریفائنڈ ایندھن کی ترسیل مؤثر طور پر متاثر ہو رہی ہے۔ عراق اور کویت جیسے تیل پیدا کرنے والے ممالک کے پاس آبنائے ہرمز کے علاوہ تیل برآمد کرنے کا کوئی متبادل راستہ نہیں ہے۔

دریں اثنا بڑی معیشتوں کے گروپ جی سیون نے عندیہ دیا ہے کہ وہ ممکنہ قلت کو پورا کرنے کے لیے مزید تیل جاری کرنے پر غور کر سکتے ہیں۔

آبنائے ہرمز کے ذریعے تیل کی ترسیل سے متعلق غیر یقینی صورتحال کے باعث منگل کو عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں شدید اتار چڑھاؤ دیکھا گیا، جہاں فی بیرل قیمت 90 ڈالر سے زیادہ اور 80 ڈالر سے کم کے درمیان مسلسل بدلتی رہی۔

شیئر کریں:
W

Web Desk

Media Channel

شائع ہوا: 11 مارچ، 2026 کو 06:18 AM

آخری تدوین: 25 مارچ، 2026

متعلقہ مضامین

ایران جنگ کے بعد امریکی میزائل ذخائر میں نمایاں کمی، پینٹاگون نے ہنگامی فنڈز مانگ لیے: امریکی میڈیا
تازہ ترین

ایران جنگ کے بعد امریکی میزائل ذخائر میں نمایاں کمی، پینٹاگون نے ہنگامی فنڈز مانگ لیے: امریکی میڈیا

امریکی میڈیا کے مطابق ایران کے ساتھ جنگ کے دوران امریکا کے پیٹریاٹ اور تھاڈ میزائل دفاعی نظام کے ذخائر میں نمایاں کمی آئی ہے۔ فاکس نیوز کی رپورٹ کے مطابق پینٹاگون نے دفاعی صلاحیت بحال کرنے کے لیے اربوں ڈالر کے ہنگامی فنڈز کی درخواست کر دی ہے

Web Desk1 اگست، 2026
ایران پر بھرپور حملوں کی تیاری، ہتھیار ڈالنے پر مجبور کر دیں گے: صدر ٹرمپ
امریکا

ایران پر بھرپور حملوں کی تیاری، ہتھیار ڈالنے پر مجبور کر دیں گے: صدر ٹرمپ

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ امریکا ایران پر بھرپور فوجی حملوں کی منصوبہ بندی کر رہا ہے۔ ٹرمپ کے مطابق ان کارروائیوں کا مقصد ایران کو ہتھیار ڈالنے پر مجبور کرنا اور اسے جوہری ہتھیار حاصل کرنے سے روکنا ہے

Web Desk1 اگست، 2026
امریکا نے چین، بھارت، روس اور ایران کے اداروں پر نئی پابندیاں عائد کر دیں
تازہ ترین

امریکا نے چین، بھارت، روس اور ایران کے اداروں پر نئی پابندیاں عائد کر دیں

امریکا نے ایران سے متعلق نئی پابندیوں کا اعلان کرتے ہوئے چین، بھارت، روس اور ایران کے متعدد اداروں کو پابندیوں کی فہرست میں شامل کر دیا۔ ٹریول، لاجسٹکس، کارگو اور دیگر کمپنیوں پر بھی پابندیاں عائد کی گئی ہیں

Web Desk31 جولائی، 2026