ایرانی ایجنٹ کی بلیک میلنگ کا دعویٰ: امریکی سیاست دانوں کے قتل کی سازش میں نامزد پاکستانی آصف مرچنٹ کا بروکلین عدالت میں بیان

امریکا میں گرفتار پاکستانی شہری آصف مرچنٹ کو امریکی سیاست دانوں کے قتل کی مبینہ سازش کے الزام میں بروکلین کی وفاقی عدالت میں پیش کیا گیا، جہاں اس نے دعویٰ کیا کہ اسے ایک ایرانی ایجنٹ نے بلیک میل کرکے اس منصوبے میں شامل ہونے پر مجبور کیا۔
عدالت میں بیان دیتے ہوئے آصف مرچنٹ نے کہا کہ ایرانی خفیہ ایجنسی کے ایک ہینڈلر نے اپریل 2024 میں اسے ہدایت دی کہ وہ امریکا جائے اور “ممکن ہے کسی کو قتل کروانے کا بندوبست کرے۔” مرچنٹ کے مطابق اس کے ہینڈلر کا نام مہردار یوسف ہے۔
آصف مرچنٹ نے عدالت کو بتایا کہ اسے سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ، صدر جو بائیڈن اور سابق صدارتی امیدوار نکی ہیلی کو نشانہ بنانے کا ٹاسک دیا گیا تھا۔ اس نے دعویٰ کیا کہ اسے اس سازش میں شامل ہونے پر مجبور کیا گیا کیونکہ ایران میں مقیم اس کے خاندان کو سنگین دھمکیاں دی جا رہی تھیں۔
مرچنٹ کے مطابق اس کے پاس “کوئی اور راستہ نہیں تھا” کیونکہ اس کے خاندان کو قتل کی دھمکیاں دی گئی تھیں۔ اس نے کہا کہ اس نے یہ کام اس لیے قبول کیا کیونکہ اس کے بقول یوسف، جو اسلامی انقلابی گارڈ کور (IRGC) کا رکن ہے، اس کے ایران میں موجود رشتہ داروں پر دباؤ ڈال رہا تھا۔
عدالت میں بتایا گیا کہ آصف مرچنٹ کو گزشتہ سال نیویارک کے ایک ہوائی اڈے سے اس وقت گرفتار کیا گیا جب وہ پاکستان واپس جانے کی کوشش کر رہا تھا۔
استغاثہ کے مطابق مرچنٹ نے امریکی سیاست دانوں کے قتل کے لیے جن کرائے کے قاتلوں کو پانچ ہزار ڈالر ادا کیے تھے، وہ دراصل ایف بی آئی کے خفیہ ایجنٹ تھے۔
مرچنٹ، جس کی پاکستان میں ایک علیحدہ بیوی اور تین بچے ہیں، نے عدالت کو ایران میں موجود اپنی بیوی اور بیٹی کو دی جانے والی کسی مخصوص دھمکی کی تفصیلات فراہم نہیں کیں۔
اس نے مزید دعویٰ کیا کہ وہ اس منصوبے کے بارے میں امریکی حکومت کو آگاہ کرنا چاہتا تھا اور اسی بنیاد پر گرین کارڈ حاصل کرنے کا ارادہ رکھتا تھا۔
سماعت کے دوران آصف مرچنٹ کے لیے اردو سے انگریزی ترجمہ کرنے والا مترجم بھی عدالت میں موجود تھا۔ اگر مرچنٹ پر الزامات ثابت ہو گئے تو اسے عمر قید کی سزا کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
Web Desk
Media Channel
شائع ہوا: 7 مارچ، 2026 کو 11:40 AM
آخری تدوین: 22 مارچ، 2026



