امریکہ - ایران کشیدگی میں اضافہ، ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی کا سخت ردعمل: “دباؤ کے آگے ایران نہیں جھکے گا”

ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا ہے کہ جب بھی سفارتی حل سامنے آرہا ہوتاہے، امریکہ ایک بار پھر “غیر ذمہ دارانہ فوجی مہم جوئی” کا راستہ اختیار کر لیتا ہے۔
( تہران / نیوز ایجینسیز) سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اپنے بیان میں عباس عراقچی نے سوال اٹھایا کہ آیا یہ رویہ محض دباؤ ڈالنے کی حکمتِ عملی ہے یا پھر کسی ایسے فریق کا اثر ہے جو امریکی قیادت کو ایک نئے تنازع میں دھکیل رہا ہے۔
انہوں نے واضح کیا کہ اس کی وجوہات کچھ بھی ہوں، نتیجہ ہمیشہ ایک ہی ہوتا ہے کہ ایران دباؤ کے سامنے نہیں جھکے گا۔
عراقچی کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب خطے میں امریکہ اور ایران کے درمیان کشیدگی ایک بار پھر بڑھ گئی ہے۔
تازہ اطلاعات کے مطابق امریکی افواج نے حالیہ دنوں میں خلیج اور آبنائے ہرمز کے قریب ایرانی آئل ٹینکرز اور بحری جہازوں کو نشانہ بنایا، جن میں کچھ کارروائیوں میں بحری جہازوں کو ناکارہ بنایا گیا جبکہ بعض کو واپس موڑنے پر مجبور کیا گیا۔
رپورٹس کے مطابق یہ کارروائیاں امریکی بحری ناکہ بندی کے نفاذ کا حصہ ہیں، جس کا مقصد ایران سے تیل کی ترسیل کو روکنا بتایا جا رہا ہے۔
ان واقعات کے بعد خطے میں صورتحال مزید کشیدہ ہو گئی ہے، جہاں دونوں ممالک ایک دوسرے پر جارحانہ اقدامات کے الزامات عائد کر رہے ہیں۔ بعض رپورٹس کے مطابق ان جھڑپوں کے دوران جانی نقصان اور بحری حملوں کا بھی تبادلہ ہوا ہے۔
ماہرین کے مطابق موجودہ صورتحال اگر اسی طرح جاری رہی تو مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی مزید بڑھ سکتی ہے، جبکہ سفارتی کوششوں کو بھی شدید دھچکا لگ سکتا ہے۔
عباس عراقچی نے اپنے بیان میں دو ٹوک مؤقف اختیار کرتے ہوئے کہا کہ ایران نہ پہلے دباؤ میں آیا ہے اور نہ آئندہ آئے گا، اور ملک اپنی خودمختاری اور مؤقف کا دفاع کرتا رہے گا۔
Web Desk
Media Channel
شائع ہوا: 9 مئی، 2026 کو 12:19 PM
آخری تدوین: 9 مئی، 2026



