وائسز آف امریکا
تازہ خبریں
پاکستان

امریکا کو بی ایل اے اور مجید بریگیڈ کی بلیک لسٹنگ کیلئے پاکستان کا ساتھ دینا چاہیے، دی ڈپلومیٹ

W
Web Desk
17 جون، 2026
امریکا کو بی ایل اے اور مجید بریگیڈ کی بلیک لسٹنگ کیلئے پاکستان کا ساتھ دینا چاہیے، دی ڈپلومیٹ

امریکی جریدے دی ڈپلومیٹ نے اپنے تجزیے میں کہا ہے کہ امریکا کو اقوام متحدہ میں بی ایل اے اور مجید بریگیڈ کی بلیک لسٹنگ کیلئے پاکستان کی حمایت کرنی چاہیے تاکہ علاقائی سلامتی کے خطرات کا مؤثر مقابلہ کیا جا سکے

(واشنگٹن) امریکی جریدے "دی ڈپلومیٹ" میں شائع ہونے والے ایک تجزیاتی مضمون میں کہا گیا ہے کہ امریکا کو اقوام متحدہ میں بلوچستان لبریشن آرمی (بی ایل اے) اور اس کی ذیلی تنظیم مجید بریگیڈ کو بلیک لسٹ کرنے کی پاکستانی کوششوں کی حمایت کرنی چاہیے۔

مضمون کے مطابق پاکستان اور چین نے بی ایل اے کو عالمی سطح پر سفارتی اور مالی طور پر تنہا کرنے کے لیے اقوام متحدہ سے رجوع کیا، تاہم امریکا کی جانب سے اس عمل میں تاخیر یا عدم پیش رفت مختلف سوالات کو جنم دیتی ہے، کیونکہ امریکا خود بی ایل اے اور مجید بریگیڈ کو دہشت گرد تنظیمیں قرار دے چکا ہے۔

تجزیے میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ افغانستان میں موجود مبینہ محفوظ ٹھکانے علاقائی سلامتی کے لیے خطرہ بنے ہوئے ہیں اور بی ایل اے اب صرف ایک مقامی شورش پسند گروہ نہیں رہی بلکہ خطے میں عدم استحکام پیدا کرنے کی صلاحیت رکھنے والی تنظیم میں تبدیل ہو چکی ہے۔

مضمون میں کہا گیا کہ اگر بی ایل اے کو اقوام متحدہ کی پابندیوں کی فہرست میں شامل کیا جائے تو اس کے اثاثے منجمد کرنے، عالمی سفری پابندیاں عائد کرنے اور اس کے مالی وسائل و بین الاقوامی نیٹ ورکس کو محدود کرنے میں مدد مل سکتی ہے۔

دی ڈپلومیٹ کے مطابق بی ایل اے ماضی میں چین پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک) سے متعلق منصوبوں، چینی شہریوں اور پاکستانی سول و عسکری اہداف پر حملوں میں ملوث رہی ہے، جبکہ اس کی بین الاقوامی سطح پر مبینہ سہولت کاری کو نہ روکا گیا تو مستقبل میں مزید خطرات جنم لے سکتے ہیں۔

مضمون میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ بلوچستان کے معدنی ذخائر میں امریکی دلچسپی اور ممکنہ سرمایہ کاری کے تناظر میں مستقبل میں امریکی عملہ اور کاروباری مفادات بھی سیکیورٹی خطرات سے دوچار ہو سکتے ہیں، لہٰذا بی ایل اے کے خلاف ایک متوازن، مؤثر اور بین الاقوامی سطح پر مربوط حکمت عملی اختیار کرنا ضروری ہے۔

تجزیے کے مطابق علاقائی استحکام، سرمایہ کاری کے تحفظ اور دہشت گردی کے خلاف عالمی کوششوں کو مؤثر بنانے کیلئے بین الاقوامی تعاون ناگزیر ہے۔

شیئر کریں:
W

Web Desk

Media Channel

شائع ہوا: 17 جون، 2026 کو 11:34 AM

آخری تدوین: 17 جون، 2026

متعلقہ مضامین

امریکہ اور ایران کے درمیان 14 نکاتی تاریخی مسودۂ معاہدہ منظرعام پرآگیا
امریکا

امریکہ اور ایران کے درمیان 14 نکاتی تاریخی مسودۂ معاہدہ منظرعام پرآگیا

امریکہ اور ایران کے درمیان 14 نکاتی تاریخی عبوری معاہدے کا مسودہ منظرِ عام پر آ گیا ہے، جس پر جمعہ کو سوئٹزرلینڈ میں دستخط متوقع ہیں۔ مجوزہ معاہدے میں فوری اور مستقل جنگ بندی، ایران پر عائد پابندیوں کے مرحلہ وار خاتمے، آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت کی مکمل بحالی اور ایران کے لیے 300 ارب ڈالر کے اقتصادی ترقیاتی پیکج کی تجاویز شامل ہیں۔

Web Desk17 جون، 2026
گلگت بلتستان کے 4 نو منتخب آزاد اراکین اسمبلی کا استحکام پاکستان پارٹی میں شمولیت کا اعلان
پاکستان

گلگت بلتستان کے 4 نو منتخب آزاد اراکین اسمبلی کا استحکام پاکستان پارٹی میں شمولیت کا اعلان

گلگت بلتستان اسمبلی میں بڑی سیاسی پیش رفت، 4 نو منتخب آزاد اراکین اسمبلی نے عبدالعلیم خان سے ملاقات کے بعد استحکام پاکستان پارٹی میں شمولیت اختیار کر لی۔ آئی پی پی نے خطے میں ترقی، سیاحت، تعلیم، صحت اور روزگار کے فروغ کے عزم کا اظہار کیا

Web Desk16 جون، 2026
افغانستان میں موجود دہشتگرد گروہ پاکستان اور خطے کے امن کیلئے سنگین خطرہ ہیں، عاصم افتخار
تازہ ترین

افغانستان میں موجود دہشتگرد گروہ پاکستان اور خطے کے امن کیلئے سنگین خطرہ ہیں، عاصم افتخار

اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب عاصم افتخار احمد نے کہا ہے کہ افغانستان میں موجود دہشتگرد تنظیمیں نہ صرف پاکستان بلکہ پورے خطے کے امن و استحکام کیلئے ایک بڑا خطرہ بن چکی ہیں، جبکہ پاکستان کے خلاف سرحد پار حملوں میں افغان سرزمین کا استعمال بھی ہو رہا ہے

Web Desk16 جون، 2026