برطانوی وزیرِاعظم کیئر اسٹارمر مستعفی، لیبر پارٹی کی بغاوت اور انتخابی شکستوں کے بعد عہدہ چھوڑنے کا اعلان

ان کے استعفے سے قبل لیبر پارٹی کو حالیہ بلدیاتی انتخابات میں شدید دھچکا پہنچا تھا، جہاں پارٹی تقریباً 1,500 کونسل نشستیں اور 25 سے زائد کونسلوں کا کنٹرول کھو بیٹھی تھی
( لندن ) برطانیہ کے وزیرِاعظم کیئر اسٹارمر نے پیر کے روز اپنے عہدے سے استعفیٰ دینے کا اعلان کر دیا، جس کے بعد برطانوی سیاست میں ایک بڑا ہلچل پیدا ہو گئی ہے۔ اسٹارمر نے کہا کہ وہ لیبر پارٹی کی قیادت بھی چھوڑ رہے ہیں، تاہم نئے رہنما کے انتخاب تک بطور نگران وزیرِاعظم اپنی ذمہ داریاں انجام دیتے رہیں گے

10 ڈاؤننگ اسٹریٹ کے باہر قوم سے خطاب کرتے ہوئے اسٹارمر نے کہا، "میں نے ہمیشہ اپنے ملک کے مفاد کو اولین ترجیح دی ہے۔ اسی لیے میں لیبر پارٹی کی قیادت سے استعفیٰ دے رہا ہوں۔ میں نے آج صبح بادشاہ معظم کو اپنے فیصلے سے آگاہ کر دیا ہے۔"
انہوں نے اعتراف کیا کہ ان کی جماعت کے اندر ان کی قیادت پر اعتماد کمزور ہو چکا تھا۔ ان کا کہنا تھا، "میری جماعت اب یہ سوال پوچھ رہی ہے کہ کیا میں آئندہ عام انتخابات میں پارٹی کی قیادت کے لیے بہترین شخص ہوں۔ میں نے اپنی پارلیمانی پارٹی کا جواب سن لیا ہے اور اسے خوش دلی سے قبول کرتا ہوں۔"
اسٹارمر نے اعلان کیا کہ لیبر پارٹی کی نیشنل ایگزیکٹو کمیٹی 9 جولائی سے نئے رہنما کے انتخاب کا عمل شروع کرے گی، جبکہ موسمِ گرما کی پارلیمانی تعطیلات سے قبل یہ مرحلہ مکمل کر لیا جائے گا۔ اگر مقابلہ ہوا تو ستمبر میں پارلیمنٹ کے دوبارہ اجلاس سے پہلے نئے رہنما کا انتخاب کر لیا جائے گا۔
ان کے استعفے سے قبل لیبر پارٹی کو حالیہ بلدیاتی انتخابات میں شدید دھچکا پہنچا تھا، جہاں پارٹی تقریباً 1,500 کونسل نشستیں اور 25 سے زائد کونسلوں کا کنٹرول کھو بیٹھی۔ انتخابی ناکامیوں کے بعد پارٹی کے اندر اختلافات بڑھ گئے تھے اور کئی وزراء کے استعفوں نے اسٹارمر کی پوزیشن مزید کمزور کر دی تھی

یورپی کمیشن کی صدر ارسولا فان ڈیر لائن نے اسٹارمر کی خدمات کو سراہتے ہوئے کہا کہ انہوں نے مختصر عرصے میں ایک مدبر رہنما کے طور پر اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوایا اور یورپ و یوکرین کی سلامتی کے لیے اہم کردار ادا کیا۔
دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھی اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر ردِعمل دیتے ہوئے کہا کہ کیئر اسٹارمر دو اہم شعبوں، امیگریشن اور توانائی، میں بری طرح ناکام رہے۔ ٹرمپ نے ایران بحران کے دوران بھی اسٹارمر پر تنقید کی تھی اور کہا تھا، "ہم ونسٹن چرچل جیسے رہنما سے نہیں نمٹ رہے۔"

سیاسی مبصرین کے مطابق اسٹارمر کا استعفیٰ برطانوی سیاست میں ایک نئے دور کا آغاز ثابت ہو سکتا ہے، جبکہ لیبر پارٹی اب اپنی قیادت کے انتخاب اور مستقبل کی سیاسی حکمتِ عملی کے حوالے سے ایک اہم مرحلے میں داخل ہو گئی ہے
Web Desk
Media Channel
شائع ہوا: 22 جون، 2026 کو 03:19 PM
آخری تدوین: 22 جون، 2026



