آخر پاکستان ہی کیوں؟
ذوالقرنین شیخ
آپ سوچتے ہوں گے کہ آخر ایسا کیا ہے کہ پاکستان، جو اپنے اندر بے شمار مسائل سمیٹے ہوئے ہے، آج عالمی معاملات میں اہم کردار ادا کرتا دکھائی دیتا ہے؟
ایک ایسا ملک جہاں روٹی، روزگار اور علاج بنیادی مسائل بن چکے ہوں۔ جہاں کراچی جیسے عظیم شہر میں لوگ پانی کی ایک بوند کو ترستے ہوں۔ جہاں بجلی کے بل کی غلط اوور ریڈنگ درست کروانا بھی کسی معرکے سے کم نہ ہو۔ جہاں تعلیمی مافیا کھلے عام عوام کو لوٹ رہا ہو اور ’’پنکی کوئین‘‘ جیسی شخصیات دن دہاڑے دندناتی پھرتی ہوں۔ جہاں سڑک کنارے ہونے والی اموات معمول کی خبر بن چکی ہوں اور ہر دفتر، ہر ادارے اور ہر سہولت کے لیے لمبی قطاریں لگی ہوں۔ جہاں کامیابی کا پیمانہ اکثر بیرونِ ملک جانے یا دولت سمیٹنے کے نت نئے طریقوں تک محدود نظر آتا ہو۔
تو پھر سوال پیدا ہوتا ہے کہ آخر ایسا کیا ہے کہ یہی پاکستان آج دنیا کے بڑے فیصلوں میں اثرانداز ہو رہا ہے؟
اس کا جواب صرف ایک ہے: پاکستان کا منفرد اور حقیقی جنگی تجربہ۔
اب شاید آپ کو لگ رہا ہو کہ میں پاکستان کی فوج کے قصیدے پڑھنے جا رہا ہوں، لیکن ذرا ٹھہریے۔
وہ امریکہ، جو اپنے اتحادیوں کے ساتھ دنیا کی جدید ترین دفاعی اور انٹیلی جنس صلاحیتوں کا حامل ہے، دہشت گردی کے خلاف جنگ مکمل کیے بغیر افغانستان سے واپس چلا گیا۔ حالانکہ تاریخ گواہ ہے کہ امریکہ خود ایک ایسی قوم ہے جس نے گوریلا جنگ لڑ کر برطانوی سلطنت جیسی سپر پاور کو شکست دی اور اپنی آزادی کی بنیاد رکھی۔
لیکن جب اکیسویں صدی میں یہی جنگ خود امریکہ کو براہِ راست لڑنا پڑی تو اسے اس کی پیچیدگیوں کا اندازہ ہوا۔ شاید اسی لیے آج امریکی پالیسی ساز سوویت یونین کے خلاف افغان جہاد اور بعد ازاں دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستان کے کردار کو پہلے سے زیادہ اہمیت دینے لگے ہیں۔
حقیقت یہ ہے کہ موجودہ دور میں پاکستان کی فوج دنیا کی ان چند افواج میں شامل ہے جنہوں نے گزشتہ ڈھائی دہائیوں کے دوران دہشت گردی کے خلاف مسلسل اور عملی جنگ لڑی۔ پاکستان کی فوج کا شاید ہی کوئی افسر یا جوان ایسا ہو جو کسی نہ کسی آپریشنل تجربے سے نہ گزرا ہو۔
یہ وہ تجربہ ہے جو دنیا کی بہترین عسکری اکیڈمیوں میں بھی نہیں سکھایا جا سکتا۔
ایک وقت تھا جب لاہور، کراچی، پشاور اور کوئٹہ سمیت پورا ملک دہشت گردی کی لپیٹ میں تھا۔ خودکش حملے روزمرہ کا معمول بن چکے تھے۔ جی ایچ کیو سمیت شاید ہی کوئی اہم عمارت ایسی ہو جس پر حملے کی کوشش نہ ہوئی ہو۔
اس جنگ کی سب سے بڑی پیچیدگی یہ تھی کہ دشمن وردی پہن کر سامنے نہیں آتا تھا، بلکہ معاشرے کے اندر چھپا ہوا تھا۔ مختلف عالمی قوتیں اور خفیہ ادارے اپنے اپنے مفادات کے لیے مختلف گروہوں کی پشت پناہی کر رہے تھے، لیکن ان تمام مشکلات کے باوجود پاکستان اس بحران سے نکلنے میں کامیاب ہوا۔
آج یہی وجہ ہے کہ یورپ، مشرقِ وسطیٰ، افریقہ اور مشرقِ بعید کے متعدد ممالک کی افواج پاکستان کے تجربات سے استفادہ کرنے اور مشترکہ تربیتی پروگراموں میں دلچسپی رکھتی ہیں۔
پاکستان کی موجودہ عسکری قیادت، فیلڈ مارشل عاصم منیر، نے میجر سے لے کر بریگیڈیئر تک دہشت گردی کے خلاف جنگ میں عملی کردار ادا کیا۔ مزید یہ کہ وہ پاکستان کی تاریخ کے پہلے آرمی چیف ہیں جنہیں ملٹری انٹیلی جنس اور آئی ایس آئی دونوں کی سربراہی کا منفرد تجربہ حاصل ہے۔
شاید یہی وجہ ہے کہ انہوں نے ماضی کے بعض فوجی حکمرانوں کی طرح اقتدار کو مکمل طور پر اپنے ہاتھ میں لینے کے بجائے ایک ہائبرڈ نظام کو ترجیح دی، جس میں سیاسی اور عسکری قیادت مشترکہ طور پر کام کرتی ہے۔
یہی پس منظر ہے جس کے باعث امریکی نائب صدر JD Vance نے حالیہ دنوں میں یہ دلچسپ تبصرہ کیا کہ فیلڈ مارشل عاصم منیر سے ان کی گفتگو اپنی اہلیہ سے بھی زیادہ رہی۔
پاکستان ایک ایسا ملک ہے جو ایک طرف بھارت جیسے روایتی حریف کے ساتھ کشیدگی کا سامنا کرتا ہے، تو دوسری طرف چار دہائیوں سے افغانستان کے عدم استحکام کے اثرات بھی برداشت کر رہا ہے۔ اسی دوران اس نے چین کے ساتھ اپنی اسٹریٹجک شراکت داری کو بھی برقرار رکھا ہے۔
سعودی عرب کے ساتھ دفاعی تعاون، حرمین شریفین کے تحفظ میں کردار، اور خطے کے مختلف تنازعات میں سفارتی رابطے پاکستان کو ایک منفرد مقام دیتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ایران اور امریکہ کے درمیان حالیہ رابطوں میں بھی پاکستان کا نام اہمیت کے ساتھ لیا جا رہا ہے۔
تاہم یہ بھی ایک ناقابلِ تردید حقیقت ہے کہ پاکستان کے معاشی حالات ابھی تک تسلی بخش نہیں۔ اگر سیاسی اور عسکری قیادت نے بروقت معاشی اصلاحات اور انقلابی فیصلے نہ کیے تو سفارتی کامیابیاں اپنی جگہ، عوامی مسائل جوں کے توں رہیں گے۔
ہر کامیاب سفارت کاری کا اصل مقصد قومی مفادات کا حصول ہوتا ہے۔ اگر ایران اور امریکہ کے درمیان کشیدگی میں کمی آتی ہے تو پاکستان کو فوری طور پر ایران۔پاکستان گیس پائپ لائن منصوبے کی تکمیل اور سستی گیس کی فراہمی کے امکانات پر توجہ دینی چاہیے۔
کیونکہ جب توانائی سستی ہوگی تو صنعت کا پہیہ تیزی سے گھومے گا۔ پاکستان کی سب سے بڑی طاقت اس کی نوجوان اور محنتی افرادی قوت ہے۔ سستی توانائی اور مؤثر معاشی پالیسیوں کے ذریعے ایسا صنعتی انقلاب برپا کیا جا سکتا ہے جو پاکستان کی ترقی کی رفتار کو یکسر بدل دے۔
بصورتِ دیگر، اگر تمام سفارتی سرگرمیوں اور بین الاقوامی کردار کا نتیجہ عام پاکستانی کی زندگی میں بہتری کی صورت میں ظاہر نہ ہو تو پھر عوام یہی کہیں گے:
"ساڈا کی اے، اللہ ہی اللہ!"

ذوالقرنین شیخ
ذوالقرنین شیخ لاہور میں سینئر صحافی ہیں۔ پاکستان کے بڑے میڈیا اداروں کے ساتھ فرائض انجام دے چکے ہیں اور اس وقت چینل 365 اور ڈیلی ٹائمز کے ساتھ منسلک ہیں
شائع ہوا: 22 جون، 2026 کو 03:40 PM
آخری تدوین: 22 جون، 2026


