سپریم کورٹ نے چودھری پرویز الہٰی کی ضمانت منسوخی کی اپیل نمٹا دی، ٹرائل کورٹ کو دو ہفتوں میں سماعت مکمل کرنے کی ہدایت

سپریم کورٹ نے حکومت پنجاب کی جانب سے چودھری پرویز الہٰی کی ضمانت منسوخی کی اپیل نمٹا دی جبکہ محمد خان بھٹی کی ضمانت منسوخی کی درخواست خارج کر دی۔ عدالت نے ٹرائل کورٹ کو دو ہفتوں میں کیس کی سماعت کرنے کی ہدایت جاری کی
اسلام آباد: سپریم کورٹ نے حکومت پنجاب کی جانب سے سابق وزیراعلیٰ پنجاب چودھری پرویز الہٰی کی ضمانت منسوخی کی اپیل نمٹا دی، جبکہ محمد خان بھٹی کی ضمانت منسوخی کی درخواست بھی خارج کر دی۔ عدالت نے ٹرائل کورٹ کو ہدایت کی ہے کہ وہ دو ہفتوں کے اندر کیس کی سماعت کرے۔
چیف جسٹس یحییٰ آفریدی کی سربراہی میں قائم بینچ نے کیس کی سماعت کی۔ اس موقع پر پراسیکیوٹر جنرل پنجاب نے مؤقف اختیار کیا کہ ملزمان اب تک 18 مرتبہ التوا حاصل کر چکے ہیں اور ٹرائل کورٹ میں پیش نہیں ہو رہے، جس کے باعث مقدمے کی کارروائی متاثر ہو رہی ہے۔
سماعت کے دوران چیف جسٹس یحییٰ آفریدی نے استفسار کیا کہ ملزمان ٹرائل کورٹ میں پیش کیوں نہیں ہو رہے۔ اس پر ملزمان کے وکیل علی ظفر نے عدالت کو بتایا کہ پراسیکیوشن کے دعوے حقائق کے برعکس ہیں۔ ان کے مطابق چودھری پرویز الہٰی ایک سال تک جیل میں رہے، لیکن اب تک نہ فردِ جرم عائد کی گئی ہے اور نہ ہی استغاثہ کی جانب سے شواہد پیش کیے گئے ہیں۔
چیف جسٹس نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ شواہد پیش کرنا پراسیکیوشن کی ذمہ داری ہے، تاہم ملزمان کی عدالت میں حاضری بھی لازمی ہے اور کسی کو قانون کا غلط فائدہ اٹھانے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔
سپریم کورٹ نے اپنے ریمارکس میں واضح کیا کہ اگر ملزمان ٹرائل کورٹ میں پیش نہیں ہوتے تو متعلقہ عدالت کو ان کی ضمانت منسوخ کرنے کا اختیار حاصل ہے۔
عدالتِ عظمیٰ نے کیس نمٹاتے ہوئے ٹرائل کورٹ کو ہدایت کی کہ وہ دو ہفتوں کے اندر مقدمے کی سماعت کرے اور قانون کے مطابق کارروائی آگے بڑھائے۔
Web Desk
Media Channel
شائع ہوا: 28 جولائی، 2026 کو 06:14 AM
آخری تدوین: 28 جولائی، 2026



