ایرانی دھمکیوں کے باوجود آبنائے ہرمز کا جنوبی بحری راستہ کھلا، ایک ہزار سے زائد تجارتی جہاز بحفاظت گزر گئے: سینٹ کام

سینٹ کام نے کہا ہے کہ ایران کی دھمکیوں کے باوجود آبنائے ہرمز کا جنوبی بحری راستہ تجارتی جہازوں کے لیے کھلا ہے۔ گزشتہ تین ماہ میں ایک ہزار سے زائد جہاز بحفاظت گزرے جبکہ امریکی بحریہ نے عالمی تجارت اور تیل کی ترسیل کے تحفظ کے لیے معاونت جاری رکھی
امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹ کام) نے کہا ہے کہ ایران کی جانب سے دھمکیوں اور خطے میں جاری کشیدگی کے باوجود آبنائے ہرمز کا جنوبی بحری راستہ تجارتی جہازوں کے لیے بدستور کھلا ہے اور بحری آمدورفت معمول کے مطابق جاری ہے۔
سینٹ کام نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر جاری اپنے بیان میں کہا کہ گزشتہ تین ماہ کے دوران ایک ہزار سے زائد تجارتی جہاز اس اہم عالمی آبی گزرگاہ سے بحفاظت گزر چکے ہیں، حالانکہ اس عرصے میں ایران کی جانب سے متعدد جارحانہ اقدامات اور دھمکیوں کا سامنا بھی رہا۔
بیان کے مطابق امریکی بحریہ نے آبنائے ہرمز سے گزرنے والے تجارتی جہازوں کو ضروری معاونت اور سیکیورٹی فراہم کی، تاکہ عالمی تجارت اور توانائی کی ترسیل میں کسی قسم کی رکاوٹ پیدا نہ ہو۔
سینٹ کام کا کہنا ہے کہ اس کے بحری آپریشنز کا مقصد خطے میں کشیدگی کے باوجود عالمی تجارتی سرگرمیوں اور تیل کی سپلائی کو بلا تعطل جاری رکھنا اور بین الاقوامی بحری راستوں کو محفوظ بنانا ہے۔
آبنائے ہرمز دنیا کی اہم ترین آبی گزرگاہوں میں شمار ہوتی ہے، جہاں سے عالمی سطح پر خام تیل اور توانائی کی بڑی مقدار مختلف ممالک تک پہنچائی جاتی ہے، اس لیے اس راستے کی سلامتی عالمی معیشت کے لیے انتہائی اہم سمجھی جاتی ہے۔
Web Desk
Media Channel
شائع ہوا: 5 اگست، 2026 کو 02:21 AM
آخری تدوین: 5 اگست، 2026



