عالمی مارکیٹ میں خام تیل کی قیمتوں میں 7 فیصد کمی، برینٹ 83.77 اور امریکی خام تیل 80.34 ڈالر فی بیرل

عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں تقریباً 7 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی۔ برینٹ خام تیل 83.77 ڈالر جبکہ امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ 80.34 ڈالر فی بیرل پر بند ہوا، جبکہ اوپیک پلس نے پیداوار بڑھانے پر بھی اتفاق کیا
لندن: عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں نمایاں کمی ریکارڈ کی گئی ہے، جس کے بعد قیمتیں تقریباً 7 فیصد گر کر 13 جولائی کے بعد اپنی کم ترین سطح پر بند ہو گئی ہیں۔
تازہ تجارتی اعداد و شمار کے مطابق برینٹ خام تیل کی قیمت 6.35 ڈالر کمی کے بعد 83.77 ڈالر فی بیرل پر بند ہوئی، جبکہ امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ (WTI) خام تیل 4.33 ڈالر سستا ہو کر 80.34 ڈالر فی بیرل کی سطح پر آ گیا۔
ماہرین کے مطابق تیل کی قیمتوں میں یہ کمی ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب امریکی محکمہ توانائی کے اعداد و شمار سے ظاہر ہوا کہ امریکا کے اسٹریٹجک پیٹرولیم ریزرو میں خام تیل کے ذخائر 1983 کے بعد کم ترین سطح پر پہنچ گئے ہیں۔
رپورٹس کے مطابق یہ صورتحال اس فیصلے کے بعد پیدا ہوئی، جس کے تحت ٹرمپ انتظامیہ نے اسٹریٹجک ذخائر سے 172 ملین بیرل خام تیل جاری کرنے کی منظوری دی تھی۔
دوسری جانب توانائی کے شعبے کے ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر آبنائے ہرمز میں جہاز رانی مکمل طور پر بحال ہو جاتی ہے تو عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتیں جنگ سے پہلے کی سطح کے قریب آ سکتی ہیں۔
ادھر برطانوی خبر رساں ادارے کے مطابق اوپیک پلس کے سات اہم رکن ممالک، جن میں سعودی عرب، روس، عراق، کویت، الجزائر، قازقستان اور عمان شامل ہیں، نے ستمبر سے یومیہ تقریباً ایک لاکھ 88 ہزار بیرل اضافی تیل پیدا کرنے پر اتفاق کیا ہے۔
یہ فیصلہ 2023 میں طے پانے والی یومیہ 16 لاکھ 50 ہزار بیرل رضاکارانہ پیداوار میں کمی کو مرحلہ وار ختم کرنے کے منصوبے کا آخری مرحلہ قرار دیا جا رہا ہے۔ رپورٹ کے مطابق متحدہ عرب امارات، جو اس منصوبے کا حصہ تھا، مئی میں اوپیک سے علیحدہ ہو چکا ہے۔
Web Desk
Media Channel
شائع ہوا: 4 اگست، 2026 کو 04:39 AM
آخری تدوین: 4 اگست، 2026



